Showing posts with label Daily World News In Urdu. Show all posts
Showing posts with label Daily World News In Urdu. Show all posts

Friday, 21 June 2013

پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گ


پاکستان دنیا کا واحد ملک ہےجسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد
ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!

پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی "عظم نو "مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے باقی امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!

امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے !!

فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔۔۔!!

یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔۔۔ 
"ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو" ۔۔۔۔۔۔۔۔

انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا انحصار بھی ایف پیک اور فورتھ جنریشن وار کی کامیابی پر ہے

تحریر شاہد خان

Saturday, 15 June 2013

کوئٹہ دہشت گردی کی زد میں،ڈپٹی کمشنر سمیت12جاں بحق

کوئٹہ…کوئٹہ میں ویمن یونی ورسٹی کی بس میں دھماکے سے 11 طالبات جاں بحق اور بائیس زخمی ہو گئیں۔ زخمی طالبات کو بولان میڈیکل اسپتال پہنچایا گیا جہاں ایک اور دھماکا ہوا اور نقاب پوش دہشت گردوں نے اسپتال پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنالیا۔ فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ بھی جاں بحق ہوگئے۔ پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے آپریشن شروع کردیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیاض سنبل نے جیو نیوز کو بتایا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بس طالبات کو لے جانے کیلئے تیار کھڑی تھی, اچانک بس کے اندر زور دار دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔ دھماکے اور آگ سے 11 طالبات جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئیں جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل اسپتال پہنچایا گیا جہاں طالبات اور دیگر مریضوں کے لواحقین سمیت پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی پہنچ گئے۔ اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات میں بھی ایک دھماکا ہوا اور اس کے بعد شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی ۔ اطلاعات کے مطابق اسپتال میں نقاب پوش دہشت گردوں نے اسپتال میں لوگوں کو یرغمال بنالیا جن میں بعض سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے اسپتال کی چھت اور دیگر مقامات پر مورچے بنارکھے ہیں۔ فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ جاں بحق اور اسسٹنٹ کمشنر صدر انور علی شر زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری اسپتال طلب کرلی گئی۔ سیکیورٹی اہل کاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

Wednesday, 18 April 2012

بھارت: بین البراعظمی میزائل اگنی پانچ کا تجربہ

نئی دہلی: بھارت نے بیلسٹک میزائل اگنی فائیو کا تجربہ کیا ہے، بین البراعظمی بیلاسٹک میزائل پانچ چین سمیت ایشیا اور یورپ کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیلسٹک میزائل اگنی فائیو اڑیسہ کے ساحل سے فائر کیا گیا۔ پانچ ہزار کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس میزائل سے بھارت کو چین کے شمالی حصے سمیت پورے ایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوجائے گی۔ اگنی میزائل جوہر ی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور ایک ٹن تک ایٹمی مواد ہدف تک لے جاسکتا ہے۔اس سے پہلے امریکا، روس فرانس اور چین کے پاس اس نوعیت کے میزائل کی اہلیت تھی۔ اگنی فائیو ٹھوس ایندھن سے بھرا ہے، سترہ میٹر لمبا، دومیٹر چوڑا اور پچاس ٹن وزنی ہے۔ اگنی میزائل کا تجربہ گزشتہ روز کیا جانا تھا، تاہم خراب موسم کے باعث یہ تجربہ جمعرات کے روز  کیا گیا ہے۔ بیلسٹک میزائل اگنی فائیو آئندہ تین برسوں میں بھارتی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

Tuesday, 17 April 2012

لندن اولمپک گیمز کے انعقاد میں 100 دن باقی رہ گئے

لندن: اولمپک کھیلوں کے انعقاد میں سو دن باقی رہ گئے ہیں۔ لندن میں کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ لندن میں اولمپک کھیلوں کے مقابلے تیس مختلف مقامات پر ہوں گے جن کی تیاریوں کا تکنیکی جائزہ لینے کیلئے جانچ پڑتال جاری ہے۔ ٹینس مقابلے ویمبلڈن، فٹ بال میچ ویمبلے سٹیڈیم جبکہ تیر اندازی کے مقابلے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوں گے۔ برطانوی کھلاڑیوں نے مقابلوں کی پریکٹس شروع کر دی ہے۔