Showing posts with label Quetta News. Show all posts
Showing posts with label Quetta News. Show all posts

Saturday, 15 June 2013

بولان میڈیکل اسپتا ل میں مسلح افرادموجود ،وقفے وقفے سے فائرنگ

کوئٹہ… بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتا ل میں مسلح افراد اورایف سی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جا ری ہے، بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتا ل میں مسلح افراد اب بھی موجود ہیں جو لوگ اسپتال میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے مسلح افراد اس پر فائرنگ کر دیتے ہیں۔صورت حال کے پیش نظررینجرز کی اضافی نفری بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتا ل روانہ کردی گئی ہے۔ اسپتال میں ویمن یونیورسٹی کی بس میں دھماکے کی20سے زائد طالبات زیر علاج ہیں جبکہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ اسپتال میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔

کوئٹہ دہشت گردی کی زد میں،ڈپٹی کمشنر سمیت12جاں بحق

کوئٹہ…کوئٹہ میں ویمن یونی ورسٹی کی بس میں دھماکے سے 11 طالبات جاں بحق اور بائیس زخمی ہو گئیں۔ زخمی طالبات کو بولان میڈیکل اسپتال پہنچایا گیا جہاں ایک اور دھماکا ہوا اور نقاب پوش دہشت گردوں نے اسپتال پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنالیا۔ فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ بھی جاں بحق ہوگئے۔ پولیس اور سیکیورٹی اہل کاروں نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے آپریشن شروع کردیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیاض سنبل نے جیو نیوز کو بتایا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بس طالبات کو لے جانے کیلئے تیار کھڑی تھی, اچانک بس کے اندر زور دار دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔ دھماکے اور آگ سے 11 طالبات جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئیں جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل اسپتال پہنچایا گیا جہاں طالبات اور دیگر مریضوں کے لواحقین سمیت پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی پہنچ گئے۔ اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات میں بھی ایک دھماکا ہوا اور اس کے بعد شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی ۔ اطلاعات کے مطابق اسپتال میں نقاب پوش دہشت گردوں نے اسپتال میں لوگوں کو یرغمال بنالیا جن میں بعض سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے اسپتال کی چھت اور دیگر مقامات پر مورچے بنارکھے ہیں۔ فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالمنصور کاکڑ جاں بحق اور اسسٹنٹ کمشنر صدر انور علی شر زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری اسپتال طلب کرلی گئی۔ سیکیورٹی اہل کاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

Sunday, 17 February 2013

کوئٹہ دھماکہ، ملزموں کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت

کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ پر ہزارہ ٹائون میں واٹر ٹینکر بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 85 ہوگئی۔ صوبہ بلوچستان اور سندھ میں سرکاری سوگ منایا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ شہرمیں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔ کوئٹہ شہر میں دہشت گردی کی بدترین کارروائی کے بعد فضا سوگوار رہی۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کیرانی روڈ سانحہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ پولیس کے مطابق گذشتہ روز کرانی روڈ کے علاقے علی آباد میں واٹر ٹینکر کے ذریعے کئے جانے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 83 افراد کی میتیں ضروری کارروائی کے بعد بی ایم سی ہسپتال اور سی ایم ایچ سے ہزارہ ٹائون کے مختلف امام بارگاہوں میں منتقل کر دی گئیں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور وحدت المسلمین کی کال پر کوئٹہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی اور تین سے 7 یوم کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پشتون خواء ملی عوامی پارٹی اور تاجران ایکشن کیمٹی نے بھی اظہار یکجہتی کے طور پر شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو 8 سالہ زخمی بچہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے 19 افراد کی شناخت نہیں ہو سکی۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کیرانی روڈ سانحہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ یہ الٹی میٹم ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب چیئرمین عزیزاللہ ہزارہ نے کوئٹہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کیرانی روڈ سانحہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں اور اگر ملوث عناصر کو گرفتار نہ کیا گیا تو روزانہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ میں ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں اور اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کے سامنے بھی مظاہرے کئے جائیں گے، اس موقع پر انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سانحہ کیرانی روڈ کے زخمیوں کو فوری طور پر کراچی اور بیرون ملک منتقل کرنے کے انتظامات کئے جائیں۔

Sunday, 13 January 2013

آج کوئٹہ فوج کے حوالے نہ کیا تو سڑکوں پر آجائیں گے، وحدت مسلمین

کوئٹہ…مجلس وحدت مسلمین نے کہا ہے کہ حکومت نے آج دوپہر بارہ بجے تک کوئٹہ کو فوج کے حوالے نہ کیا تو ملک بھر میں اہل تشیع سڑکوں پر آجائیں گے۔ یہ بات مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی جنرل راجہ ناصر عباس نے کوئٹہ میں نیوز کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سو سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا مگر بلوچستان کے حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔انہوں نے دہشت گردی پر قابو پانے کی حکومتی ناکامی میں صرف نواب رئیسانی ہی نہیں بلکہ صدر آسف زرادری بھی برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے یا گورنر راج کا جو مطالبہ کررہے ہیں وہ یہاں امن کیلئے ہے۔انہوں نے یہ ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئٹہ سمیت صوبے میں امن کیلئے گھر سے نکلیں ۔

Friday, 11 January 2013

کوئٹہ بم دھماکوں نے سیکورٹی اداروں پر سوالات کھڑے کردیئے

کوئٹہ…کوئٹہ میں گذشتہ روز کے خود کش حملے اور دو بم دھماکوں نے امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے ایک بار پھر صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔کوئٹہ میں آئے دن دھماکے ، دہشت گرد کارورائیوں اور مجرموں کے گرفت میں نہ آنے کی صورتحال نے ایک طرف عوام کو عدم تحفظ سے دوچار کردیا ہے ، تو دوسری طرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھادیئے ہیں ۔عوام موت کا شکار ، دہشت گرد آسانی سے فرار ، آخر کیوں ؟ایک عشرے سے زیادہ وقت گزر گیا ، شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کیوں نہیں ہوسکی ۔دہشت گرد تعداد میں زیادہ ہیں ، یا صلاحیت میں ،انٹیلی جنس ادارے کیوں ناکام ہورہے ہیں ۔سیکیورٹی اداروں کے پاس دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا توڑ کیوں نہیں ہے ۔کیا سرکاری وسائل، دہشت گردی کے مسائل کے لیے ناکافی ہیں ۔اگر ناکافی ہیں تو انہیں ہم آہنگ کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔شہر میں لاشیں گررہی ہیں،کیا حکومت کا کام صرف گرتی لاشوں کی گنتی کرنا رہ گیا ہے۔حساس ادارے اس حساس معاملے پرایکشن میں کیوں نہیں آرہے۔

Thursday, 10 January 2013

کوئٹہ کےدھماکوں میں سماء کے سینیئررپورٹرسیف الرحمان شھید ھوگئے

کوئٹہ : کوئٹہ میں علمدارروڈ کےدھماکوں میں شدید زخمی ھونےوالےسماء کے سینیئررپورٹر سیف الرحمان زخموں کی تاب ناں لا کراسپتال میں شھید ھو گئے۔

 سب سے پہلے خبر دینے کے جنون میں سیف الرحمان خود ہیڈلائن بن گئے۔۔ وہ علمدار چوک دھماکے کی کوریج میں مصروف تھے۔۔ کہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔۔ سیف کے ساتھی کہتے ہیں وہ نڈر اور بے باک صحافی تھے۔

 خبر۔۔ خبر اور صرف خبر ۔۔ سیف الرحمان پر ایک ہی دھن سوار رہتی تھی ۔۔ عوام تک بروقت خبر پہنچائی جائے  ۔۔ لیکن آج وہ خود ایک خبر بن گئے۔۔

علمدار روڈ پر پہلا دھماکا ہوا تو سیف اپنی ٹیم کو لے کر کوریج کے لئے موقع پر پہنچ گئے۔۔ لیکن دہشت گردوں نے ابھی بس نہیں کی تھی ۔۔۔ دوسرا دھماکا ہوا اور ٹیم سما اس کا نشانہ بن گئی۔

 سیف الرحمان دھماکے کے بعد لاپتہ ہوئے۔۔ کافی دیر بعد خبر آئی کہ انہیں شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔۔ وہ تین گھنٹے تک موت سے زندگی کی جنگ لڑتے رہے۔۔ لیکن پھر سیف نہ رہے۔

سیف الرحمان ٹیم سماء کے بہادر اور فعال رکن تھے۔۔ ان کے ساتھی کہتے ہیں سیف ملنسار ۔۔ محنتی اور دیانت دار صحافی تھے۔۔ انہوں نے والدین ۔۔ بیوہ اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔