Showing posts with label Abbottabad News. Show all posts
Showing posts with label Abbottabad News. Show all posts

Thursday, 30 January 2014

طالبان دہشت گرد، امریکہ کے پروردہ اور مغرب کے حمایت یافتہ

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواه کے مرکز پشاور کی گنجان آبادی والے علاقے میں ایک سو تیس سالہ قدیمی چرچ مبینہ طور پر دو خودکش حملہ آوروں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ دسیوں بے گناہ انسان خاک وخوں میں غلطاں اور بیسیوں افراد کے جسم کے چیتھڑے بکھر گئے جن میں مختلف سن وسال کے افراد خصوصا بچے اور عورتیں شامل ہیں۔
مارنے والے مسلمان اور مرنے والے عیسائی اور زخمیوں کو نجات دینے والے امدادی کارکن مسلمان۔ بڑی عجیب و غریب صورتحال ہے۔ گذشتہ دنوں مملکت شام کے حوالے سے خبر ملی تھی کہ وہاں القاعدہ سے وابستہ ایک گروہ نے ایک عیسائی بستی میں گھس کر تقریبا 130 افراد کو جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے، نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کردیا۔
یہ درندہ صفت لوگ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور کچھ دوسرے مسلمان نما لوگ ان کے ان کاموں کی توجیہ پیش کرتے ہیں۔ طالبان کے طرف دار بعض انتہائی معروف اور دیندار حضرات سے کہتے سنا ہے کہ یہ بم دھماکے اور خودکش حملے ردعمل ہے۔ عذر بدتر از گناہ کے مصداق یہ لوگ بتائیں کہ امریکی ڈرون حملوں، نیٹو کی بمباری اور پاکستانی فورسزکی کاروائی کا انتقام پاکستان کے عام شہریوں سے لینا کہاں کا انصاف ہے۔ گلوں میں قران لٹکانے والے طالبان کس جواز کے تحت لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ 
طالبان کے بارے میں یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ طالبان کو بنانے والا امریکہ ہے اور امریکہ نے ہی اس کو پروان چڑھایا اور اپنے خاص مقاصد کے لئے ان سے فائدہ اٹھایا۔لیکن یہ بات سمجھنے والی ہے کہ جس زمانے میں طالبان کو وجود بخشاگیا اس وقت امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور بعض افغان جہادی قوتوں کے مفادات مشترک اور ایک تھے چنانچہ سب نے اپنے مفادات کے لئے اس نو ظہور یافتہ جماعت کو اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا۔
طالبان کے نام پر افغانستان کی سرنوشت مسلط ہونے والے افراد بھی خود کو مکمل طور با اختیار اور ملک و ملت کا پاسباں تصور کرتے تھے لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ تضادات اور اختلافات کو ایک خاص مدت تک کے لئے تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن طویل المعیاد عرصے تک نظر انداز کرنے کے لئے ایک محکم اور مضبوط محرک کا ہونا ضروری ہے جس کا افغانستان کے تناظر میں دور دور تک شائبہ تک نہ تھا۔
پاکستان طالبان کے ذریعے افغانستان میں  ہندوستان کے اثر رسوخ کو ختم کرنے، اپنے اثر رسوخ کو بڑھانے اور وسطی ایشیا کے ملکوں کے لئے اپنے سامان تجارت کے لۓ راستہ چاہتا تھا۔ سعودی عرب ایران کے اثرو رسوخ سے خوفزدہ تھا اور نہیں چاهتا تھا کہ افغانستان میں ایران کے طرز کی انقلابی اور جمہوری حکومت تشکیل پائے۔ متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور دیگر رجعت پسند عرب ممالک اپنی امریکہ نوازی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے طالبان کی حمایت کرنے پر مجبور تھے۔ طالبان کو اپنے بے اختیار ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب ان کو کابل کی بجائے قندھار میں امارت اسلامی کا دارالخلافہ بنانا پڑا۔
طالبان، پاکستان کے مدارس اور مساجد سے نکلنے والے ایسے نوجوان تھے کہ جن کی اکثریت دنیاوی تعلیم تربیت سے بے بہرہ تھی اور دینی تعلیم پر بھی ان کو کوئی خاص عبور حاصل نہیں تھا۔ ملا محمد عمر نامی ایک 25 26 سال کا نوجوان طالبان کا کمانڈر تھا جس کا جہادی تجربہ ایک کلاشنکوف سے زیادہ نہ تھا لہذا اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں امریکہ کو زیادہ دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔
امریکہ نے 9/11 کے مشکوک واقعے کے بعد طالبان کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور ساری دنیا میں ان کو پھیلادیا اور اب جہاں کہیں بھی ایک چھوٹا سا واقعہ رونما ہوتا ہے اس کا تعلق طالبان یا القاعدہ سے جوڑکر اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حال حاضر میں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بے بہرہ کچھ  نام نہاد مفتی اپنے فتووں سے دہشت گردی کو جہاد قرار دے کر امریکہ کی معاونت کر رہے ہیں۔
عالم اسلام خصوصا پاکستان کے تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طالبان یا القاعدہ کسی فرد یا افراد کا نام نہیں ہے کہ ان سے مذاکرات کرکے دہشت گردی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ ان کو اسلام دشمن طاقتوں کی اسٹراٹیجی سمجھ کر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
افغان طالبان، پاکستانی طالبان، ازبک طالبان، چچن طالبان، پنجابی طالبان اور اب یورپی طالبان کا نام بھی سنے میں آرہا ہے۔ یہ سب طالبانزم کے ذیل میں آتے ہیں کہ جن کا باعث و بانی امریکہ ہے اور اس نظریئے سے نجات پانے کے لئے مذاکرات طالبان سے نہیں بلکہ امریکہ سے کرنے کی ضرورت ہے۔ شام کے مسائل کو دیکھتے ہوئے دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ امریکہ ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پردہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔
البتہ سعودی عرب کی معاونت کے بغیر امریکہ طالبانزم کو فروغ ںہیں دے سکتا لہذا  پاکستان کو اس معاملے میں اپنے قومی مفادات اور ملی یکجہتی  کی خاطر ریاض پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ طالبان کے ساتھ یا باالفا ظ دیگر دہشت گردوں کے ساتھ جن کے ہاتھ کہنیوں تک بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین ہیں، مذاکرات بے معنی ہیں البتہ  پاکستان کے معصوم شہریوں کو طالبانزم سے بچانے اور ان کو اس گمراہ فکر سے دور رکھنے کے لئے قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
پشاور میں چرچ میں ہونے والا خودکش حملہ جس میں مبینہ طور پر دو حملہ آور شریک تھے کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان میں مسلسل اس قسم کے واقعات رونما ہوہے ہیں اور ساری دنیا میں پاکستان کی ساکھ تو متاثر ہو ہی رہی ہے اسلام کی نورانیت پر بھی حرف آرہا ہے۔ چرچ پر حملے کو لے کر ساری مغربی دنیا میں مہینوں پاکستان اور اسلام کے خلاف پرو پیگنڈا کیا جاتا رہا رہےگا اور عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مغربی ممالک کی طرف سے  ایک لہر چل پڑے گی،  البتہ اس پروپیگنڈےکا پاکستانی حکام  کے پاس ایک معقول جواب ہے کہ یہ دہشت گرد امریکہ کے پروردہ اور مغرب کے حمایت یافتہ  ہیں کہ جنہیں ایک سازش کے تحت پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے۔

Sunday, 26 January 2014

تحریک انصاف نے پی کے 50 ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی بدترین مثال قائم کرکے دوسرے جماعتوں کو پیجھے جھوڑ دیا

پی کے 50 ہری پور 2 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 53 ہزار376ہے جبکہ کل 116پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ یہ نشست پی ٹی آئی کیرکن صوبائی اسمبلی ایوب خان کی جعلی ڈگری کیس میں نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار اکبر ایوب خان، مسلم لیگ ن کے قاضی اسد، آزاد امیدوار بابرنواز خان اور پیپلز پارٹی کے حاجی طاہرقریشی نمایاں امیدوارہیں پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں کئی حلقوں میں دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیںلیکن تحریک انصاف نے پی کے 50 ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے. بابر نواز خان کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخاب میں ہونیوالی دھاندلی کا ضرور نوٹس لینا چاہئے اور ان تمام کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے عوام کے حق پر ڈاکہ مارتے ہوئے پی کے 50 ہری پو میں دھاندلی سے تحریک انصاف کے امیدوار کو کامیاب کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہری پور کے عوام باشعور ہیں وہ دھاندلی کرنیوالوں کے چہروں کو دیکھ رہے ہیں اور انہیں کبھی معاف نہیں کرینگے

اکبرایوب خان نے 26 ہزار957   آزاد امیدوار بابر نواز خان نے 23 ہزار660 ووٹ لے کر دوسری جبکہ مسلم لیگ(ن) کے قاضی محمد اسد نے 22 ہزار028 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ،

 
 

صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ہری پور کا محل وقوع

ہری پور
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ہری پور کا محل وقوع

تاریخ

ہری پور شہر کی بنیاد1821 میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لئے چار دروازے تھے۔ ہري پور کا نام رنجيت سنگھ کےايک سِکھ جرنيل ہري سنگھ نالوا کے نام پر رکھا گيا۔ ہري پور تحصيل کو يکم جولائي 1992 ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علحيدہ کر دياگيا۔
جغرافیہ

یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائي محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدي حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔ دنيابھر ميں مٹی کا بنا ہوا سب سے بڑا بند تربیلا بند اسي ضلع ميں دریائے سندھ پر تعمير کيا گيا ہے. يہ ڈيم 2200 ميگاواٹ بجلي پيدا کرتا ہے۔ صنعتي لحاظ سے ہري پور صوبہ خیبر پختونخواہ ميں بڑ ا ضلع ہے بڑے بڑے صنعتي يونٹ جيسے ٹيلي فون فيکٹري، ہزارہ فرٹيلائزر، پاک چائنا فرٹيلائزر، تربيلا کاٹن ملز اور کئي اُوني کارخانے قائم ہيں۔ علاوہ ازيں حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ميں کئي چھوٹے بڑے کارخانے لگائے گئے ہيں۔ ان صنعتوں کي وجہ سے يہ ضلع ملکي سطح پر معاشي ترقي ميں ايک اہم کردار ادا کر رہاہے۔ ہري پور نے جہاں درمياني اور بڑي صنعتوں کے قيام ميں اہم پيش رفت کي ہے وہاں زرعي ميدان ميں بھي اس کاکردار قابلِ ستائش ہيں۔ یہ ضلع خاص کر سبزي اور پھل نہ صرف پشاور بلکہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو بھي مہياکرتا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور غازی بروتھا بند پراجيکٹ کے قيام سے ضلع کي سماجي اور معاشي ترقي مزيد يقيني ہونے کا امکان ہے۔
شماریات

ہري پور ضلع کا کُل رقبہ1725 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میڑ 466 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 803000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 77370 ہيکٹيرزھے
ہسپتال

سرکاری ہسپتال

    ضلع ہسپتال ہری پور جی ٹی روڈ
    ضلع ہسپتال ڈھینڈہ روڈ
    فوجی فاونڈیشن ہسپتال ڈھینڈہ روڈ


غیر سرکاری ہسپتال

    الغازی ہسپتال
    یحیٰی ہسپتال
    شاہ فیصل ہسپتال
   


ڈیم

خان پور ڈیم تربیلہ ڈیم پوتنی ڈیم

بیرون ملک فرار ملزمان کے ریڈوارنٹ جاری کرائیں گے، شاہد حیات

کراچی…کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے جیونیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا کام قربانیوں سے ہو کرگزرتا ہے۔ یونیفارم پہنی ہے حوصلہ نہیں ہاریں گے۔ان کا کہنا تھا جب تک آخری مجرم نہیں پکڑلیتے یہ جہاد جاری رہے گا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیا ت نے کہا کہ ہم جرائم پیشہ افراد کے پیچھے جاتے ہیں کبھی وہ ہمارے پیچھے آتے ہیں ، کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوجاتے ہیں دہشت گرد حملوں سے پولیس کے حوصلے اور قوت ارادری پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شاہد حیات نے کہا کہ یونیفارم پہنی ہے ہمارا کام ہی قربانیوں سے ہوکر گزرتا ہے جب تک آخری مجرم کو نہیں پکڑ لیتے یہ ہمارا جہاد ہے کرتے رہیں گے۔کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ لانڈھی واقع کے بعد 90 کے قریب لوگوں کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیرول پر ملک سے باہر جانے والوں کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شاہد حیات نے بتایا کہ بلٹ پروف جیکٹس کی خریداری کا مرحلہ جاری ہے۔آرمی کے 500 ریٹائرڈ افسران نے پولیس جوائن کرلی ہے مزید 600جوائن کریں گے جبکہ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے لئے وزیر اعلی سندھ نے 400 اہلکاروں کی منظوری دے دی ہے ۔

جنرل ضیا نے کہا تھا امریکی امداد میں مونگ پھلی نہیں چاھئے

 جنرل ایوب سے قبل پاکستان ایک روپے کا بھی مقروض نہیں تھا ، امریکہ سے ، سیٹو، اور سینٹو فوجی معاھدے ایوب کے دور میں کئے گئے،
ایوب نے بڈھ بیڑ ہشاور کا مواصلاتی فضائ بیس روس اور چین کی فضائ جاسوسی کے لئے امریکہ کو دیا گیا جب روس نے امریکہ کا جاسوسی یو ٹو جاسوسی طیارہ سمیت پائلٹ کے اتارا اور دنیا کے سامنے ہیش کیا ، روس کی دھمکی کے بعد یہ اڈہ بند کیا گیا، اس فضائ اڈہ کے اندر کسی پاکستانی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی،
یہانتک کے اس زمانے کی خبر مجھے آج بھی یاد ھے ، زولفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت ایوب ھکومت کے وزیر خارجہ تھے انکو بھی باھر روک دیا گیا تھا
امریکہ ہی کے دباؤ مین آکر ایوب نے ھندوستان کیساتھ سندھ طاس معاھدہ کیا جسکے تحت پنجاب کے 3 دریاؤں کا پانی ھندوستان کو فروخت کردیا دریا راوی، بیاس، اور چناب،
اسکے بعد کیا جنرل ضیاء کے دور میں امریکی ڈالرون مے زور پر روس کے خلاف افغانستان میں جہاد نہیں کیا
کیا جنرل ضیاء کے اس بیان کو خبار نہیں سر اھتے رھے جو ضیاء نے امریکی صدر جمی کارٹر کو دیا تھا، ضیاء نے کہا تھا امریکی امداد میں مونگ پھلی نہیں چاھئے جب کارٹر نے امداد کی رقم بڑھادی تو اسنے خوشی سے قبول کرلی
کس صحافی اور سیاستدانون نے امریکہ سے ڈالر نہیں لئے ، اور اس بات سے آجتک کسنے انکار کیا ھے کہ 65 سال سے پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے دوست اتحادی نہیں ہیں،
یہ پاکستان کے اندر ھزاروں این جی اوز مختلف کام کر رہی ہیں کیا یہ سب پیسہ امریکہ سے نہیں آتا اور ان این جی اوز کے مالک ملازم پاکستانی لوگ نہیں ہیں،

ا، نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں بلوچستان کے شہری ایمل کانسی کو ڈیرہ غازی خان کے ھوٹل شالیمار سے امریکی کمانڈوز گرفتار کرکے نہیں لے گئے تھے ایمل کانسی نے سی آئ اے کے دو ایجنٹ قتل کئے تھے، اور ا سکی گرفتاری کا الزام فاروق لغاری جو کہ اس وقت ملک کے صدر تھے اور چودھری نثار جو اسوقت غالبا'' وزیر دفاع تھے لگا تھا کہ انہوں نے 20 لاکھ ڈالر وصول کئے تھے
اور امریکی سینیٹر کا وہ بیان بھی یاد کرو جو اسنے امریکی کانگریس میں دیا تھا اور 20لاکھ کی رقم دینے پر تنقیدا'' کہا تھا کہ '' پاکستانی 100 ڈالر میں ماں کو بیچ دیتے ہیں اور سی آئ اے نے 20 لاکھ ڈالر ایک شخص کی گرفتاری پر دے دئے
ماضی کے درجنون وقعات لکھے جا سکتے ہیں مواد کی کوئ کمی نہیں ھے

Sunday, 12 January 2014

Shaheed Aitzaz Hasan and Shaheed CH Aslam

The next time you wonder how Pakistan has survived and how Pakistan will last remeber that it is because true sons of motherland DID NOT AND WILL NEVER NEGOTIATE!

Brave Boy.... True Hero of Pakistan

شیہد اعتزاز حسین









 

Saturday, 11 January 2014

سلہڈ تا میر پور بائی پاس تعمیر کرین گے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب پرویز خٹک کا دورہ ایبٹ آباد پریس کلب  نو تعمیر شدہ عمارت پریس کلب کا افتتاح کیا۔
صدر پریس کلب راجہ محمد ہارون کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ نے ذیل اعلانات کےئے۔
میڈیا کالونی کے لےئے 2 کروڑ روپے کا اعلان۔
پریس کلب کے لےئے 2 ملین کی گرانٹ کا اعلان۔
ایبٹ آباد کے لےئے ریسکیو۱۱۲۲ سروس شروع کرنیکا اعلان۔
ایوب میڈیکل کمپلیکس کی او پی ڈی کمپیوٹرائزڈ کرنے سمیت سلہڈ تا میر پور بائی پاس کی تعمیرکیلئے اقدامات کا اعلان۔

Sunday, 5 January 2014

حکومت جن لوگوں سے مذاکرات کرنے جارہی ہے وہ وطن، اسلام اور انسان دشمن لوگ ہیں, سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین

مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور سنی اتحاد کونسل پاکستان کے تحت قومی امن کنونشن بیاد
شہدائے پاکستان کاانعقاد کیا گیا۔ سنی و شیعہ علما کے علاوہ عیسائی، سکھ اور ہندو برادری کے نمائندہ وفود بھی پروگرام میں شرکت کی۔ آل ہندو رائٹس موومنٹ کے ہارون سرب دیال، سکھ برادری کے نمائندہ سردار چربجیت سنکھ ساگر، اشوک چند اور پشاور کی عیسائی برادری کے نمائندہ اعجاز پادری نے بھی شرکت کی۔ یاد رہے کہ قومی امن کنونشن کا انعقاد کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ڈی چوک پر منعقد ہوا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکومت جن لوگوں سے مذاکرات کرنے جارہی ہے وہ وطن، اسلام اور انسان دشمن لوگ ہیں۔ جنہوں نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں جنہوں نے مساجد میں امام بارگاہوں میں بازاروں میں معصوم بچوں کو شہید کیا ہے۔ جنہوں نے غیرمسلم ہم وطنوں کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا نے قومی امن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں طالبان سے حکومتی مذاکرات کسی صورت بھی منظور نہیں ہیں۔ 

Friday, 27 December 2013

بے نظیر تجھے سلام : نوید اکرم عباسی

بے نظیر تجھے سلام
نوید اکرم عباسی
0333-5417660
عالم اسلامی کی پہلی منتخب وزیر اعظم خاتون عظیم قائد محسن پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو پاکستانی عوام کی نظروں سے دور کرنے کیلئے 27 دسمبر کی ایک شام راولپنڈی لیاقت باغ میں شہید کرنے والے اسلام دشمن یہ نہیں جانتے تھے کہ بی بی شہید کا جسد خاکی لاڑکانہ گڑھی خدا بخش کی سرزمین میں ہو گا اور بی بی شہید ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہر پاکستانی کے دل میں زندہ و جاوید ہوں گی کیونکہ شہید کبھی مرا نہیں کرتے۔ عالم اسلامی کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ اغیار کو جب بھی مسلمانوں سے خطرہ محسوس ہوا انہوں نے مسلمانوں کے اندر سے ہی لوگوں کو لالچ مراعات دے کر اپنے بھائیوں کے خلاف استعمال کیا اسی طرح قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے ساتھ بھی ہوا جب ذوالفقار علی بھٹو شہید اقوام عالم کی اسلام دشمن پالیسی سمجھ گئے اور انہوں نے اس وقت کے مسلمان راہنمائوں شاہ فیصل ، قذافی و دیگر سے معاملات طے کر کے تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے اور لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی تو ان مسلمان راہنمائوں کو کس طرح چن چن کر راستے سے ہٹایا گیا پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا گیا مگر وہ اسلام دشمن نہیں جانتے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو وہ تحفہ دیا گیا جو محفوظ ہاتھوں میں ہے وہ پاکستان کو ایٹمی طاقت دے گیا جسکو بعد ازاں پاکستانی حکمرانوں اور خصوصاً میاں نواز شریف نے بھی قبول کیا اور آج باوجود برے حالات کے کوئی پاکستان پر حملہ کا سوچ بھی نہیں سکتا ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد انکی ہونہار بیٹی جسکو وہ پیار سے پنکی کہتے تھے اور عوام شہید رانی کو بے نظیر کہتے تھے نے پاکستان کو آگے لیجانے اور اقوام عالم میں پاکستان کو ایک خود مختیار ، باوقار ریاست ثابت کیا پاکستانی عوام نے بی بی شہید کو دوبارہ ملک کا وزیر اعظم بنوایا اور وہ عالم اسلام کی پہلی منتخب وزیر اعظم بھی تھیں ۔ یہ بی بی شہید کا کمال تھا کہ جہاں جہاں پاکستان کا قومی پرچم لہراتا تھا وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کا پرچم لہراتا اور چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر کے نعرے لگتے جہاں وفاق پاکستان کی رٹ تھی وہاں وفاق کی نشانی شہید رانی کا نام ضرور آتا ۔ کراچی سے خیبر ، گوادر سے واہگہ وزیرستان سے گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے کشمیر مظفر آباد تک ہر جگہ قابل قبول ہستی بے نظیر بھٹو شہید کی سحر انگیز شخصیت جسکو پاکستانی عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے وقت وقت کے آمروں اور انکے حواریوں نے بھرپور کوشش کی ناکامی پر اسی بے نظیر کے قدموں میں گرے اور کچھ کو قدرت نے نشان عبرت بنایا اور جب یہ عظیم خاتون عظیم ماں ، عظیم بیوی ، عظیم بیٹی ، عظیم بہن پاکستانی عوام کی لاشریک عظیم قائد بن کر ایک بار پھر سامنے آئی جس نے پاکستان کو اپنے والد کی طرح دفاعی طور پر مزید مضبوط کرنے کیلئے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی اور معاشی طور پر عوام کو بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش تمام پاکستانی سیاسی قائدین بشمول موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف یہ سمجھ گئے کہ پاکستان کی مضبوطی سیاسی قیادت کا مل بیٹھنا میں ہی ہے اور بے نظیر بھٹو کی شخصیت سب کو متحد کر سکتی ہے یوں جب پاکستانی قیادت
ایک جگہ ہوئیں میاں صاحب کو جدہ سے پاکستان واپس آنے اور پاکستان میں رہ کر عوام کی خدمت کیلئے بے نظیر بھٹو نے تیار کیا اور کبھی موت سے نہ ڈرنے والی مجاہدہ باوجود دھماکوں دھمکیوں کے پاکستان میں آئیں اور عوام میں رہنے لگی اور یوں جب ان طاقتوں نے دیکھا کہ ہم پی پی پی اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو عوام سے دور نہیں کر سکتے تو انہوں نے بی بی رانی کو شہید کر کے منوں مٹی میں دفن تو کر دیا جہاں کروڑوں پاکستانیوں کے معاشی ترقی مضبوط پاکستان کے ارمان بھی دفن ہوئے مگر بی بی شہید آج بھی پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں انکی پارٹی کو ووٹ نہ دینے والے بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک ہونہار قابل اور وفاقی لیڈر تھیں جنکے بعد اب وفاق پاکستان کی حد تک کوئی قابل شخصیت نہیں 27 دسمبر کی شام بی بی شہید کے پاک خون سے جو جمہوریت کی شمع روشن کی گئی اور جن جن طاقتوں ، شخصیات نے انکے نام پر حکمرانی ، مراعات اور مال بٹورا یقینا انہوں نے اس شہید قائد کے خون کا سودا کیا اور جن لوگوں نے خدمت کی وہ ضرور سرخرو ہونگے بی بی شہید کی شہادت کے بعد پورے ملک کی طرح ہزارہ ڈویثرن اور ایبٹ آباد ضلع میں بھی جہاں آج بھی بھٹو کے نام لیوا بستے ہیں جنکو یہ پروا نہیں کہ کون اسکی پارٹی اور انکا نام غلط استعمال کر رہا ، کون ابن الوقت اور موقع پر ست لوگ ہیں وہ آج بھی اپنے قائدین اور بے نظیر بھٹو شہید سے پیار کرتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بی بی شہید کے خون کے عوض حکمرانی کرنے والے چھوٹے ، بڑے لیڈروں کو اب عوام میں نکل کر اپنی نڈر دلیر قائد کی طرح ملک دشمن اسلام طاقتوں کے خلاف صف آراء ہونا ہو گا اور پاکستان کو مضبوط کرنا ہو گا اور ثابت کرنا ہو گا کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کرنے والے راہنمائوں کو جسمانی طور پر تو نظروں سے اوجھل کیا جاسکتا ہے روحانی طور پر دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ آج بھی گڑھی خدا بخش میں مدفن ان راہنمائوں کے مزارات پر روزانہ قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے دعا ہے کہ اللہ پاک بے نظیر بھٹو شہید کے درجات مزید بلند کر ے اور انکی قبر منور فرمائے (آمین )

Monday, 16 December 2013

سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو حکم

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ2حلقوں میں انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کے حوالے سے 15 روز میں رپورٹ پیش کرے۔ عمران خان نے اس پر چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چیف جسٹس تصد ق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے تحریک انصاف کی جانب سے4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دو بار درخواست دی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، دھاندلی کے معاملے کی انکوائری کے لیے 140 دن کا وقت دیا جاتا ہے، پانچ ماہ گزر گئے، اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ یہ صرف چار حلقو ں کا معاملہ نہیں، اگر چار حلقوں کا فیصلہ سنا دیا تو کل سارے کھڑے ہو جائیں گے اور بولیں گے کہ آپ نے ایک ہی پارٹی کی کیوں سنی، ایسی درخواستوں کو روکنا ناممکن ہو جائیگا۔ اس پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ عدالت فیصلہ نہیں دے سکتی تو کیا دھاندلی کی غلط روایات بھی ختم نہیں کرا سکتی ، ووٹ ہر انسان کا بنیادی حق ہے،یہاں ساری پارٹیاں روتی رہیں کہ دھاندلی ہو رہی ہے، پاکستانی شہری ہوں اور انہی کے لیے عدالت آیا ہوں۔عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ این اے 125 لاہور اور این اے 154 لودھراں کے بارے میں الیکشن ٹریبونل میں درخواستوں کی تفصیلات پیش کی جائیں ۔الیکشن کمیشن بتائے کہ اس نے اپیلیں خود کیوں نہیں سنیں ، عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر نشان انگوٹھا کی مخصوص مدت میں نشاندہی کے حوالے سے کوئی آبزرویشن نہیں دینا چاہتی ،انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے سیکریٹری الیکشن کمیشن 15 روز میں پیراوائز جواب داخل کریں۔

علامہ ناصر عباس کو 6 گولیاں لگیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ

لاہور…لاہور میں گذشتہ رات نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے علامہ ناصرعباس کاپوسٹمار ٹم مکمل ہوگیا۔مقتول کوچھ گولیاں لگیں۔علامہ ناصرعباس کی میت آج صبح جناح اسپتال لاہورلے جائی گئی۔پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق علامہ ناصرعباس کو سر، گردن اور سینے پر چھ گولیاں لگیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد میت شادمان کی امام بارگاہ منتقل کردی گئی جہاں میت کو غسل دیا جائے گا۔علامہ ناصرعباس کی نماز جنازہ آج سہ پہر گورنرہاوٴس کے باہر اداکی جائے گی

علامہ ناصر عباس کے قتل کا مقدمہ درج

لاہور…علامہ ناصرعباس کے قتل کامقدمہ تھانا گارڈن ٹاوٴن میں درج کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق مقدمہ علامہ ناصرعباس کے ڈرائیور کی مدعیت میں درج کیاگیاہے، جو 2 نامعلوم موٹرسائیکل سواردہشت گردوں کیخلاف درج کیاگیا۔ مقدمے میں دہشت گردی اورقتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ملتان کے رہنما علامہ ناصرعباس کولاہور کے علاقے شادمان میں دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ مجلس پڑھنے کے بعد جوہر ٹاوٴن جا رہے تھے۔

پشاور بم دھماکے میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ اداکر دی گئی

پشاور…پشاور بڈھ بیرکے علاقے شیخ محمدی روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ اداکر دی گئی،بم دھماکے میں4پولیس اہلکارجن میں بی ڈی یو کے انچارج عبدالحق بھی شامل تھے جاں بحق ہو ئے۔نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختون خوا انجینئر شوکت اللہ،آئی جی پولیس پشاور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

Saturday, 23 November 2013

پشاور:،تحریک انصاف کی حکومت شہید نہیں، غازی بننے جارہی ہے،عمران خان

پشاور…ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کا پشاورمیں دھرناجاری ہے جہاں مختلف راہنماؤں نے دھرنے میں شریک شرکاء سے خطاب کیا ۔اس موقع عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر ہماری حکومت جاتی ہے تو جائے مگرہم اپنے اصولوں پرقائم رہیں گے،تحریک انصاف کی حکومت شہید ہونے نہیں، غازی بننے جارہی ہے۔خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت ہے، اس صوبے سے نیٹو سپلائی گذرنے نہیں دیں گے۔عمران خان نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہو ئے کہ میاں صاحب لیڈر بننے کاوقت آگیا ہے ، قدم بڑھائیں قوم آپ کے ساتھ ہے ۔پشاور ہائیکورٹ ڈرون حملوں کو جنگی جرائم قرار دے چکی ہے، لیکن اوباما کے سامنے پڑھی گئی پرچیوں میں ڈرون کا کوئی ذکر نہیں تھا۔امن مذاکرات ہونے لگے تو امریکا نے ڈرون حملہ کردیا،آپ کو اس صورت حال پر دو ٹوک رویہ اپنان چا ہیئے۔عمران خان نے مزید کہا کہ چند سو القاعدہ ارکان کے تعاقب میں ہزاروں پاکستانیوں کو مارا گیا، بے گناہ پاکستانیوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کردیا گیا، نائن الیون میں پاکستان ملوث نہیں، تو پھر ہمیں اس کی سزا کیوں دی جا رہی ہے۔میں میاں صاحب سے کہتا ہوں کہ لیڈر بننے کا ، وقت آگیا ہے، قدم اٹھائیں، قوم آپ کے ساتھ ہے۔

سبز چا ئے وزن ہی نہیں گھٹا تی آ نکھو ں کی بیماریوں سے بھی محفو ظ رکھتی ہے

نیویارک…این جی ٹی…سبز چائے جہاں وزن گھٹا نے اور معدہ کے امر اض میں فا ئدہ مند ہے وہیں یہ آ نکھوں کے لیے بھی بہترین ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطا بق سبز چا ئے آ نکھوں کے انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔چینی تحقیق کے مطا بق سبز چا ئے میں پا ئے جا نے والے اجزاء آ نکھ میں انفیکشن پیدا کرنے والے خلیات کو ختم کر دیتے ہیں اور اس کا با قا عدہ استعمال مو تیا کی بیما ری کے خطرے کو بھی کم کر دیتا ہے ۔

Tuesday, 19 November 2013

یوم عاشور کے جلوس پر حملہ آور افراد اور مسجد کے خطیب کو توہین رسالت کے مقدمے میں گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے،ملی یکجہتی کونسل سندھ


ملی یکجہتی کونسل سندھ کے کراچی سے تعلق رکھنے والے ممتاز سنی و شیعہ علمائے کرام نے راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس پر حملے کو پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں کے بے مثال اتحاد کے خلاف سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث سرکردہ افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ و سنی علمائے کرام بشمول ملی یکجہتی کونسل سندھ کے قائم مقام صدر اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، علامہ صادق رضا تقوی، جمعیت علمائے پاکستان کے صوبائی صدر علامہ عقیل انجم، شیعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ ناظر عباس تقوی سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ عید میلاد النبی (ص) اور عزاداری شہدائے کربلا کے خلاف شر انگیزی کرنا دہشت گردوں کی سازش ہے تاکہ شیعہ و سنی کے درمیان افتراق کی فضاء کو پیدا کیا جاسکے لیکن پاکستان کے شیعہ و سنی مسلمان اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانتے ہیں اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

سپاہ صحابہ کے فرقہ وارانہ دہشت گردوں کی امداد بحرین کی حکومت کرتی ہے – مولانا طاہر اشرفی کا جراتمندانہ انکشاف

Summary: Tahir Ashrafi revealed that sectarian terrorists of Sipah Sahaba (ASWJ) are financially sponsored by the Bahrain government. He also revealed that Taji Khokhar and certain other property and drug mafia lords of Pakistan were backing Ahmed Ludhyanvi, the current head of ASWJ (SSP).

راولپنڈی کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ ایک کالعدم تنظیم نے شیعہ سنی تصادم کروایا
اس بات كى تحقيقات كى ضرورت ہے كه سانحه تعليم القران مين تاجى كهوكهر كا كيا كردار ہے اس كے گن مين وهان كيون ؟
كچه لوگ اب لاشون پر كاروبار كرين گے اهل اسلام هوشيار رهين
الله كريم اس امت كو أصحاب رسول ص کے نام پر كاروبارى مافيا (مراد سپاہ صحابہ) سے محفوظ رکھے
…بھائی ، ہم مدرسے کے طلبا کی لاشوں کو اپنا کہ کر
جن كا دور سے بهى امن سے واسطه نهى وه سفير امن؟
أصحاب رسول ص کے غلا مون کا خون تاجى مافيا اور لوطى قوم سے ايك دن حساب لے گا
سركارى خرچ پر شهدا كا وارث بننا تاجى مافيا كو ذيب نهى ديتا
قوم جانتى ہے كه شهدا كى لاشين فروخت كون كر رها ہے اميد ہے طبيعت بحال هوگى هوگى ورنه كچه حقائق؟
شيعه اليكشن مين حمايت كرتا ہے تو اچها كهلاتاہے وگرنه كا فر كافر كا نعره، يه نظريه ہے يا مال بناو پروگرام
اب بحرين سعودية اور إمارات كى بات بهى هو گى شيعه قاديانى اور عيسائيون كى بات هوگى تيار رهو
أصحاب رسول وأهل بيت کے نام پر كاروبارى مافيا امن كا اصل دشمن ہے
جن لوگون كا كاروبار هى منافقت هو وه اس ملك مين امن کہاں هوتا ديكه سکتے ہیں
حقائق واهياتى نهى هوتى لگتا ہے لاشون كا سودا نه هوا جس پر حواس غائب هين لوطى قبيله کے
وزیر اعلی سے سب علما نے بڑی جرات سے بات کی لیکن ایک صاحب تو انتخابات کا گلہ کر رہے تھے
وزیر اعلی صاحب، ہم تو جناب کے وفادار ہیں آپ نے ہم سے وفا نہیں کی مجھے انتخابات میں ہرا دیا – علما کے وفد کے ایک رکن (لدھیانوی) کی گفتگو
يه شهدا سے غدارى نہیں تو كيا ہے كه وزير أعلى سے انتخابات كى نا كامى كى التجأ
حكمرانون كا دربار اور سجده ريز كون آج وزير أعلى كا اجلاس گواه ہے
آج تو وزیر اعلی سے بھیک مانگی شہدا کے نام پر
بہت جلد قبضوں اور کمالیہ کی زمینوں اور بھتہ خوری کا حساب دینا ہو گا
…اس کو بتا دو جھنگ سے کمالیہ کا سفر اختیار کرے، اب مزید
تم اور تمھارے کارندے اب اس ملک کو تباہ نہیں کر سکتے
الله تم كو بهى هدايت عطا فر ما دين كه تم أصحاب رسول كا نام فروخت نه كرو اور تاجى كهو كهر كى غلامى ترك كرو
حوصلہ رکھو ڈاکٹر لوط اور اس کے لونڈے احتساب میں آ رہے ہیں
الله كريم اس امت كو لوطيون سے محفوظ رکھے أمين

اس بات كى تحقيقات كى ضرورت ہے كه سانحه تعليم القران مين تاجى كهوكهر كا كيا كردار ہے اس كے گن مين وهان كيون ؟

كچه لوگ اب لاشون پر كاروبار كرين گے اهل اسلام هوشيار رهين

الله كريم اس امت كو أصحاب رسول ص کے نام پر كاروبارى مافيا (مراد سپاہ صحابہ) سے محفوظ رکھے

…بھائی ، ہم مدرسے کے طلبا کی لاشوں کو اپنا کہ کر

جن كا دور سے بهى امن سے واسطه نهى وه سفير امن؟

أصحاب رسول ص کے غلا مون کا خون تاجى مافيا اور لوطى قوم سے ايك دن حساب لے گا

سركارى خرچ پر شهدا كا وارث بننا تاجى مافيا كو ذيب نهى ديتا

قوم جانتى ہے كه شهدا كى لاشين فروخت كون كر رها ہے اميد ہے طبيعت بحال هوگى هوگى ورنه كچه حقائق؟

شيعه اليكشن مين حمايت كرتا ہے تو اچها كهلاتاہے وگرنه كا فر كافر كا نعره، يه نظريه ہے يا مال بناو پروگرام

اب بحرين سعودية اور إمارات كى بات بهى هو گى شيعه قاديانى اور عيسائيون كى بات هوگى تيار رهو

أصحاب رسول وأهل بيت کے نام پر كاروبارى مافيا امن كا اصل دشمن ہے

جن لوگون كا كاروبار هى منافقت هو وه اس ملك مين امن کہاں هوتا ديكه سکتے ہیں

حقائق واهياتى نهى هوتى لگتا ہے لاشون كا سودا نه هوا جس پر حواس غائب هين لوطى قبيله کے

وزیر اعلی سے سب علما نے بڑی جرات سے بات کی لیکن ایک صاحب تو انتخابات کا گلہ کر رہے تھے

وزیر اعلی صاحب، ہم تو جناب کے وفادار ہیں آپ نے ہم سے وفا نہیں کی مجھے انتخابات میں ہرا دیا – علما کے وفد کے ایک رکن (لدھیانوی) کی گفتگو

يه شهدا سے غدارى نہیں تو كيا ہے كه وزير أعلى سے انتخابات كى نا كامى كى التجأ

حكمرانون كا دربار اور سجده ريز كون آج وزير أعلى كا اجلاس گواه ہے

آج تو وزیر اعلی سے بھیک مانگی شہدا کے نام پر

بہت جلد قبضوں اور کمالیہ کی زمینوں اور بھتہ خوری کا حساب دینا ہو گا

…اس کو بتا دو جھنگ سے کمالیہ کا سفر اختیار کرے، اب مزید

تم اور تمھارے کارندے اب اس ملک کو تباہ نہیں کر سکتے

الله تم كو بهى هدايت عطا فر ما دين كه تم أصحاب رسول كا نام فروخت نه كرو اور تاجى كهو كهر كى غلامى ترك كرو

حوصلہ رکھو ڈاکٹر لوط اور اس کے لونڈے احتساب میں آ رہے ہیں

الله كريم اس امت كو لوطيون سے محفوظ رکھے أمين

Summary: Tahir Ashrafi revealed that sectarian terrorists of Sipah Sahaba (ASWJ) are financially sponsored by the Bahrain government. He also revealed that Taji Khokhar and certain other property and drug mafia lords of Pakistan were backing Ahmed Ludhyanvi, the current head of ASWJ (SSP). -

Sunday, 17 November 2013

راولپنڈی کے مشہور بدمعاش تاجی کھوکھر کے ڈیرے سے دس محرم کے کے لیے ہتھیار سپلائی کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 333 کی مخصوص نمبر پلیٹ والی گاڑیاں، جن میں کلاشن کوف اور پیڑول کین راجہ بازار پہنچائے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علاقے کے رہائشیوں اور باخبر افراد کے مطابق امتیاز عرف تاجی کھوکھر کے بندوں نے، نماز جمعہ کے دوران راجہ بازار میں موجود سپاہ صحابہ کے کارکنوں کو وسیع پیمانے پر جدید ہتھیاروں سے مسلح کیا۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل مولوی احمد لدھیانوی نے تاجی کھوکھر کو ہر قسم کے تعاون(غنڈوں کی فراہمی) کا یقین دلایا تھا، اور علاقے کے لوگ جانتے ہیں کہ غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے میں اسکو سپاہ صحابہ کے غنڈوں کی مدد حاصل ہے_

 

Saturday, 16 November 2013

راولپنڈی میں کشیدگی برقرار، وقفے کے بعد پھر کرفیو نافذ

راولپنڈی…راولپنڈی میں جمعے کی کشیدگی کے بعد لگائے گئے کرفیو میں رات نرمی کی گئی۔ جس کے بعد آج رات 12 بجے تک کے لیے پھر کرفیو لگا دیا گیا۔شہر میں موبائل فون سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اسلام آباد میں بھی آج دوپہر دو بجے تک موبائل سگنل بند رہیں گے۔جمعے کی رات 12 بجے سے لگے کرفیو میں رات ساڑھے نو بجے ساڑھے تین گھنٹے کے لیے نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دوران شہریوں نے کھانے پینے کے سامان سمیت ضروری اشیا کی خریداری کی۔ مختلف بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قلت کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ جہاں تمام اشیا موجود تھیں، وہاں ان کی قیمتیں بڑھی ہوئی نظر آئیں۔ آلو 100 روپے کلو، آٹے کا20 کلو والا تھیلا 1200 روپے تک فروخت کیا گیا جب کہ ایک انڈا 20 سے 25 روپے تک فروخت کیا گیا۔ کرفیو کا وقت ختم ہونے پر شہری واپس اپنے گھروں میں چلے گئے۔ڈی سی او راولپنڈی ساجد ظفر کے مطابق شہر میں نافذ کرفیومیں رات 12بجے تک توسیع کر دی گئی ہے۔ ڈی سی او کا کہنا ہے کہ شہرمیں دفعہ144نافذہے، 4سے زائدافراد اکھٹے دیکھے گئے تو کارروائی کی جائے۔ راولپنڈی میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری بھی بدستور بند ہے۔شہر میں موبائل فون سروس بھی غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی حفاظتی اقدامات کے تحت آج دو پہر دو بجے تک موبائل سگنل بند رکھے جائیں گے اور اس بارے میں سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، اس سے پہلے ہفتے کو راول پنڈی میں کرفیو کے دوران شہر کے داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا تھا،ایئر پورٹ، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر آنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، موبائل فون سروس بند رہنے سے بھی شہری عزیز و اقارب کی خیریت کے بارے میں فکر مند رہے۔اس دوران شہر میں فوج اور رینجرز کے جوانوں کی پٹرولنگ جاری رہی،اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی شہر کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی۔