Friday, 19 October 2012

لاہور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل فائرنگ سے جاں بحق

لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے معروف وکیل اور عالم دین شاکر علی رضوی نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے، ملزمان فرار ہونے میں کامیاب۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کر دی جبکہ وکلاء نے ماتحت عدلیہ کی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ جمعہ کی صبح اس وقت پیش آیا جب سینئر وکیل شاکر علی رضوی لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے کیس کی سماعت کیلئے جارہے تھے کہ ناکہ لگائے چار نامعلوم مسلح افراد نے لاہور ہائی کورٹ کے قریب ان کی گاڑی روکی اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے بعد شاکر علی رضوی شدید زخمی ہوگئے جس کے بعد ریسکیو حکام نے انہیں گنگا رام ہسپتال منتقل کیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں طبی امداد دی گئی تاہم شاکر علی رضوی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں چار گولیاں لگی تھیں جس کے باعث ان کے جسم کا زیادہ تر خون بہہ گیا تھا۔ واقعہ کے بعد پولیس اور سینئر وکلاء کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی جہاں وکلاء نے شدید احتجاج کیا اور دھمکی دی کہ اگر شاکر علی رضوی کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوجائیگا جو قاتلوں کی گرفتاری تک ختم نہیں ہوگا۔ ادھر وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ میں تمام سرگرمیوں کا بائیکاٹ کر دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی سینئر وکیل شاکر علی رضوی کے قتل پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کو قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے جبکہ وکلاء کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ یاد رہے کہ سینئر وکیل شاکر علی رضوی پر اس سے قبل بھی 2 مرتبہ قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطاء بندیال نے سینئر وکیل شاکر علی کے قتل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت پنجاب سے اس واقعہ کی وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالتی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت یہ واضح کرے کہ وکلاء اور ججوں کی حفاظت کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قابل افسوس بات ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے قریب ایک سینئر وکیل کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا جس سے سکیورٹی بارے تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے وکلاء اور ججوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے چیمبرز میں کیسوں کی پیروی کریں۔

Thursday, 18 October 2012

Religious parties have decided to restore the Muttahida Majlis Amal (MMA)

ISLAMABAD: Religious parties have decided to restore the Muttahida Majlis Amal (MMA). The Jamaat-e-Islami (JI) and JUI-S will not be part of the political alliance.

The political alliance was formed during the tenure of the last government and a meeting was held in Islamabad to decide if the MMA would be restored.

Following the meeting, the decision to restore the MMA due to the current situation in the country was announced.

When asked about the JI’s decision not to join the MMA, JUI-F chief Mualana Fazlur Rehman replied that there was no discussion regarding this in the meeting.

Rehman claimed that elections would not be delayed according to information he had received.

Son in law of Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif, sent on 14-day remand.




LAHORE: Son in law of Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif, Ali Imran has been sent to jail on 14 days judicial remand in the beating case of a bakery employee on Thursday while hearing on his bail plea has been postponed till Friday, Geo News reported.



According to sources, Ali Imran appeared in the police station on Wednesday where police arrested him under Section 109.

Today, police presented him before the area magistrate where the magistrate remanded Ali Imran in the police custody for 14 days after brief hearing of the case.

A notice was also issued to the Station house officer (SHO) in connection with Ali Imran’s bail plea while the hearing on the same has been adjourned till Friday.

The CM Punjab’s son in law will be sent to camp jail.

Shahbaz Sharif on Wednesday had directed the administration to also include his son-in-law in the investigation of the bakery beating case in Defense, Lahore. 

صحافی انسانی زخموں کے تاجر ہوتے ہیں

ملالہ معصوم ہے، بہت ہی معصوم۔ اس وقت وہ جس حالت میں ہے اسے کچھ معلوم نہیں کہ اس کے نام پر سفاک سیاست کیا کر رہی ہے۔
وہ سفاک سیاست جو وادی سوات سے اسلام آباد، اور لندن سے واشنگٹن تک پھیلی ہوئی ہے، وہ اپنی غلاظت ملالہ کے معصوم چہرے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اے این پی سوات میں ہے، پی پی پی اسلام آباد، ایم کیو  ایم کا الطاف لندن میں ہے اور باراک اوباما واشنگٹن میں۔ مگر ان سب کی سیاست اب معصوم ملالہ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ بدنام سیاست اور بے لگام میڈیا نے اپنے اپنے مفاد کیلئے ملالہ کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اور پھر جیسے کہ کہا جاتا ہے ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ یہاں بھی ردعمل ہوا، شدید ردعمل۔ بدقسمتی ہے کہ اس ردعمل کا شکار بھی وہ معصوم ملالہ بن رہی ہے جس کو کچھ معلوم نہیں۔
پاکستان کے نابالغ الیکٹرانک میڈیا نے ملالہ کو ہیرو بنانے کی کوشش کی، ایسی کوشش کہ باقی ہر خبر پیچھے رہ گئی۔ چھ سات دن تک یہ مہم جاری تھی۔ پھر سوشل میڈیا کے جنگجو تلواریں سونت کر سامنے آگئے اور ایسے آئے کہ پہلی بار معلوم ہورہا ہے کہ '' مین اسٹریم میڈیا'' کو اپنی ساکھ بچانا مشکل ہوجائے گی۔ اب سوشل میڈیا پر ملالہ غدار بن چکی ہے اور امریکی ایجنٹ بھی۔ انتہا پسند سرگرم ہیں، دونوں جانب۔ میڈیا کو تو ڈالر مل رہے ہیں مگر سوشل ویب سائٹس کے جہادی شاید بغیر معاوضے کے بھی خدمات جاری رکھنے کو تیار ہیں۔ مگر نشانہ بن رہی ہے معصوم ملالہ۔ شاید اب یہ بھی کہا جائے کہ ملالہ کو معصوم لکھنا بھی غلط ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ سوات کی بچی کا کوئی قصور نہیں۔
گل مکئی کی ڈائری کے خلاف اب ایک طبقہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کی بڑی اکثریت اس ڈائری کو سراہتی بھی ہے مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ یہ ڈائری بی بی سی اردو سروس کا رپورٹر عبدالحئی کاکڑ لکھتا تھا ؟؟ گیارہ برس کی پٹھان بچی کو اگر یہ معلوم بھی ہو کہ فرعون کی داڑھی تھی یا نہیں، اور برقعہ پتھر کے دور کی یادگار ہے یا قبل از مسیح کی تاریخ کا، مگر یقینا اس کو اتنی کم عمری میں بی بی سی کو ایک ڈائری لکھ کر بھیجنے کا طریقہ نہیں معلوم ہوگا۔ اسلام آباد کا کوئی پڑھا لکھا بچہ بھی برطانوی نشریاتی ادارے تک اپنی تحریر پہنچانے اور اسے چھپوانے کے لائق نہیں۔ برطانوی حکومت کے فنڈز سے پروپیگنڈہ کے مقصد کیلئے شروع کئے گئے اس ادارے نے گل مکئی کے کردار کو تخلیق کیا۔ اور یہ اس کے اپنے کوڈ آف ایتھکس کے خلاف تھا۔
سوات میں حالات خراب ہوئے تو میڈیا کو وہاں کے حالات رپورٹ کرنے کیلئے ایسے افراد کی ضرورت تھی جو طالبان کے خلاف بات کریں۔ بی بی سی پشاور کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ سوات سے کوئی ایسا کردار تلاش کرے۔ عبدالحئی کاکڑ نے سوات کے صحافیوں سے رابطہ کیا اور آخر کار نظر انتخاب ضیاء الدین یوسفزئی پر جا ٹھہری۔ پرائیویٹ اسکول چلانے والے ضیاء الدین نے اپنی بیٹی سے رپورٹر کی بات کرائی۔ عبدالحئی کاکڑ ملالہ سے روزانہ آدھا گھنٹہ فون پر بات کرتا، اس گفتگو کے تین صفحات کے نوٹس بناتا اور پھر اس میں سے تین پیراگراف اپنے من پسند طریقے سے ڈائری بنا کر چھاپ دیئے جاتے۔
صحافتی قوانین اور اصول کسی انٹرویو کو ڈائری کے طور پر پیش کرکے قارئین کو گمراہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ؟ بی بی سی اس کا جواب نہیں دے رہا۔ ہمارے دوست مطیع اللہ جان نے اس حوالے سے ٹی وی پروگرام کیا اور برطانوی نشریاتی ادارے کے ذمہ داران سے مئوقف لینے کی کوشش کی مگر کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ دنیا کو کیمرے کے سامنے لانے والے خود اس کا سامنا کرتے۔ ایک معصوم بچی کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر میں بھی منع کیا گیا ہے مگر بی بی سی نے جنگ زدہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ملالہ کا اصل نام بھی ظاہر کردیا، ہرچند کہ اب عبدالحئی کاکڑ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے بچی کا نام استعمال نہیں کیا بلکہ اس کے والد نے گل مکئی کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔
ایوارڈ ملنے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو میڈیا کوریج ملنا اس کا حق تھا اور وہ اس کو ملا۔ یوں وہ عام لوگوں کیلئے ایک جانی پہچانی شخصیت بن گئی۔ ملالہ نے بولنا شروع کیا اور وہ اچھا بولی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کو صحت دے، زندگی عطا کرے تاکہ وہ مزید بولے، اپنی رائے کا اظہار اس کا حق ہے۔ تعلیم حاصل کرنا بھی ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتاہے، ہر عورت اورمرد کا یہ حق بھی تسلیم کیا جانا چاہئے۔ طالبان نے سوات میں بچیوں کے اسکول بند کرائے، غلط کیا۔ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرکے ذمہ دار ی قبول کی، یہ بھی انتہائی شرمناک فعل ہے۔
معاملہ خراب کہاں سے ہوا۔؟ ملالہ پر حملے کے بعد بی بی سی اور پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کے کردار نے ہر چیز تلپٹ کردی۔ کہتے ہیں کہ زیادتی خواہ کسی بھی چیز کی ہو، اچھی نہیں ہوتی۔ یہی کچھ ہمارے میڈیا نے ملالہ کے ساتھ بھی کیا۔ معصوم بچی کو طالبان کے خلاف جنگجو بنا کر پیش کرنے، جرات اور بہادری کی علامت بنانے کے لئے اپنی حد سے زیادہ زور لگانے سے بی بی سی اور پاکستانی ٹی وی چینلز نے ہر ضابطہ اور اصول روند ڈالا۔ سات دن تک برطانوی نشریاتی ادارے نے کسی دوسری خبر کو اہمیت نہ دی اور اسی طرح ٹی وی چینلز بھی خاص ایجنڈے پر چل پڑے، دن رات ملالہ، ملالہ کے ذکر نے ان لوگوں کے زخم ہرے کردیئے جن کے پیارے خودکش حملوں اور ڈرون میزائلوں کا نشانہ بنے۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کوئی ان پڑھ، جاہل یا طالبان نہیں بلکہ انگریزی سمجھتے اور کمپیوٹرسے کھیلتے ہیں۔ میڈیا کا کردار دیکھنے کے بعد یہ لوگ میدان میں کود پڑے اور پھر یہاں بھی ملالہ، ملالہ ہوگیا مگر دوسرے انداز میں۔ غم وغصے کے بھرے لوگوں نے پھر وہ تصاویر بھی اپ لوڈ کردیں جس میں معصوم ملالہ امریکی خصوصی  ایلچی ہالبروک سے ملاقات کر رہی ہیں۔ اب بہت سارے لوگوں کیلئے ملالہ امریکی ایجنٹ ہے اور اس پر حملہ ایک سازش۔ وجہ آپ کے سامنے ہے، جب بی بی سی ہمارے لئے ہیرو تراشنے کی کوشش کرے گا تو پھر ردعمل تو ہوگا۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا ایک مخصوص انداز سے جب مہم چلائے گا تو پھر اس میڈیا پر یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام تو لگے گا۔ اعتدال بہت ضروری ہے مگر عوام کے شعور کی توہین کو وطیرہ بنانے والے ٹی وی چینل مالکان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
ہمارے امیچور میڈیا نے اس سے قبل بھی کئی ایسی حرکتیں کی ہیں مگر سبق تاحال نہیں سیکھا۔ شعیب ملک اور ثانیہ کی شادی کو لوگ ابھی نہیں بھولے۔ تشہیر ضر وری ہے مگر خبر کو خبر ہی رہنے دیں۔ حملہ کسی پر بھی ہوقابل مذمت ہے اور خبر بھی۔ جو شخصیت جتنی اہم ہوگی اس کو اتنی ہی کوریج ملے گی، یہ بھی حقیقت ہے۔ لیکن کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ جتنی تشہیر ملالہ کے واقعے کی ہوئی اتنا تو بے نظیر بھٹو قتل کو بھی ٹی وی پر ٹائم نہیں ملا تھا، مسلسل تین سو گھنٹے کی کوریج۔
خلیل جبران نے کہا تھا کہ صحافی انسانی زخموں کے تاجر ہوتے ہیں۔ شکر ہے خدا نے جبران کو ہمارے دور میں جینے کی سزا نہیں دی ورنہ وہ زخم زخم ملالہ کو بیچنے والے میڈیا کو دیکھتا تو خودکشی کرلیتا۔

مانسہرہ میں کالعدم تنظیموں کے جلسے صوبائی و مرکزی حکومت کو بے

مانسہرہ(بیورورپورٹ) مانسہرہ میں کالعدم تنظیموں کے جلسے انتظامیہ نے صوبائی مرکزی حکومت کو بے خبر رکھا تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے کالعدم شدت پسند تنظیمیں قرار دینے اور علاقے میں داخلے پر پابندی کے باوجود ضلع مانسہرہ میں ان تنظیموں کے جلسے جاری ہیں گزشتہ روز گڑھی حبیب اللہ میں کالعدم تنظیم کا جلسہ نئے نام کے ساتھ منعقد کیا گیا جس میں مولانا عطاء اللہ سکھروی اور مولانا حنیف کشمیری سمیت دیگر مقررین نے اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہوئے پاکستان کے سارے سسٹم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پرائیویٹ طور پر جہاد کا اعلان کیا اسی طرح ایک اور کالعدم تنظیم نے نئے نام کے ساتھ اخبار میں باقاعدہ اشتہار دے کر آج جلسے کا اعلان کیا ہے پاکستان کی حکومت ایک طرف ان تنظیموں کو شدت پسند قرار دے کر کالعدم ڈکلےئر کر رہی ہے تو دوسری طرف مقامی انتظامیہ اور پولیس نہ صرف ان تنظیموں کو کھلے عام جلسے کرنے کی اجازت دے رہی ہے بلکہ سرکاری طور پر کالعدم قرار دینے والی تنظیموں کے جلسوں کی حفاظت بھی کر رہی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو کالعدم تنظیموں کے جلسوں سے لاعلم بھی رکھا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ ہزارہ میں سوات جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

ایبٹ آباد، نواں شہرپولیس مقابلہ، منشیات فروش خواتین جیل روانہ

ایبٹ آباد(کرائم رپورٹر) نواں شہر محلہ خلیل زئی سے ایک گھنٹہ سے زاہد فائرنگ کے تبادلے کے بعد بدنام زمانہ منشیات فروش کھوتے والوں کو گرفتار کر کے عدالت پیش کر دیا گیا دو خواتین جیل روانہ اور دو ملزمان دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ نواں شہر کے ایس ایچ او جاوید خان نے بمعہ نفری مذکورہ ملزمان کے گھر چھاپہ مارا منشیات فروش گروہ نے پولیس پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اشتیاق شاہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا پولیس نے پوری رات آپریشن جاری رکھا اور منشیات فروش گروہ کے ارکان سمیرا روبینہ فاران اور زاہد کو گرفتار کر لیا جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے سمیرا اور روبینہ کو جیل بھیج دیا اور فاران اور زاہد کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

جرائم پیشہ عناصر کیخلاف اپنی جان دینے کیلئے تیار ہوں، اشتیاق شاہ

ایبٹ آباد(کرائم رپورٹر) منشیات فروشوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اشتیاق شاہ نے جرأت مندی اور بہادری سے مقابلہ کیا معززین علاقہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز منشیات فروشوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کا جوان شدید زخمی ہوا اشتیاق شاہ نے بہادری سے ملزمان کا مقابلہ کیا اطلاع کے مطابق نڈر پولیس اہلکار اشتیاق شاہ کی بکوٹ میں بھی جرائم پیشہ افراد کے کلاف کاروائی میں ٹانگ ٹوٹ چکی تھی عوام نے اس جرأت مند بے لوث نوجوان کو اپ گریڈ کرنے کا محکمہ سے مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ جرأت مند اہلکار نے علاقے سے منشیات فروشوں کے خاتمے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا جس پر اعلیٰ حکام اسے تعریفی اسناد سے نوازیں اور فرض شناس اور نڈر پولیس اہلکار کو ترقی دی جائے تاکہ علاقے میں قیام امن اور ایسے گروہوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے زخمی اہلکار اشتیاق شاہ نے ندائے ہزارہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے سے جرائم کے خاتمے کیلئے اپنی جان دینے کیلئے بھی تیار ہوں اور آئندہ بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کروں گا چاہے زندگی سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونا پڑے۔

Wednesday, 17 October 2012

خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل سید عاقل شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

پشاور… ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور شہبر خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل سید عاقل شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ پشاورکی مقامی عدالت میں صوبائی وزیر کھیل عاقل شاہ کی ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت آج ہوئی۔جس میں خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل سید عاقل شاہ ا عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہبرخان نے صوبائی وزیر کھیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی وزیر کھیل عاقل شاہ کی ڈگریاں کو جعلی قرار دیا تھا۔ اور کیس متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت بھیج دیا تھا۔

زیتون کشید کرنے کیلئے خصوصی مشین تیار

زرعی سائنسدانوں نے زیتون کو پھل سے قبل کشید کرنے کیلئے خصوصی مشین تیار کر لی ہے جو بیرون ملک سے درآمد کی جانیوالی مشینوں سے انتہائی سستی اور معیار میں امپورٹ کوالٹی کی مشینوں سے بہتر نتائج کی حامل ہے۔ بارانی زرعی ترقیاتی ادارہ کے ترجمان کے مطابق مقامی طور پر تیار کردہ مذکورہ مشین شاندار اوصاف رکھتی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک کو ہر سال اربوں روپے مالیت کا خوردنی تیل بیرون ممالک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیتون انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کی کاشت سے ملکی معیشت پر اضافی  بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ خوردنی تیل میں خود کفیل ہونے کیلئے زیتون کی زیادہ سے زیادہ کاشت یقینی بنائیں تا کہ ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مزید معلومات کیلئے بارانی زرعی ترقیاتی ادارہ سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Saturday, 13 October 2012

کمشنر ہزارہ نے شملہ پہاڑی پر میڈیا کالونی کا افتتاح کر دیا

ایبٹ آباد:کمشنر ہزارہ ڈویژن محمدخالد خان عمر زئی نے جمعرات کے روز شملہ پہاڑی پر امیر حیدر خان ہوتی میڈیا کالونی کا افتتاح کیا جو کہ 50 کنال پر مشتمل ہے ایبٹ آباد میڈیا کالونی کا اعلان وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے ایبٹ آباد کے دورہ کے دوران کیا تھا۔اس موقع پر خالد خان عمر زئی نے کہا کہ میڈیا ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور میڈیا کے تعاون کے بغیر کوئی بھی معرکہ سر نہیں کیا جا سکتا موجودہ صوبائی حکومت نے نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ پورے صوبے کے صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے بھر پور توجہ دی ہے اور خطیر وسائل مہیا کئے ہیں صوبے کے تمام اضلاع میں پریس کلب کی عمارات تعمیر کروائی جا رہی ہیں اور سرکاری اراضی سے میڈیا کالونیاں بھی دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد ،مانسہرہ اور ہری پور کے صحافیوں کے لئے میڈیا کالونیوں کے وعدے پورے کر دئیے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی اور وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے گہری دلچسپی لی ہے ایبٹ آباد کے صحافیوں نے تعمیری صحافت کے ساتھ ساتھ ہزارہ کے امن و امان کو بر قرار رکھتے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے ہر موقع پر انتظامیہ کا ساتھ دیا ہے۔پریس کلب کے صدر میر محمد اعوان،جنرل سیکریٹری سردار نوید عالم،ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد شاہد چوہدری ،جنرل سیکرٹری سردار شفیق احمد ،سابق صدر عامر شہزاد جدون اور سابق جنرل سیکریٹری پریس کلب راجہ محمد ہارون کے علاوہ ڈی سی او ایبٹ آباد سید امتیاز حسین شاہ ،محکمہ اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد طیب بمعہ عملہ، ڈی پی او کریم خان نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔تقریب میں ڈی او آر ایبٹ آباد فضل محمود ،اے سی او ایبٹ آباد اسامہ احمد وڑائچ ،تحصیل دار رحیم داد اور سیکریٹری آر ٹی اے حلیم خان کے علاوہ بڑی تعداد میں صحافیوں مختلف محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی۔ قبل ازیں کمشنر ہزارہ نے ایک کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ایبٹ آباد پریس کلب کے فیز ون کا بھی افتتاح کیا۔