Sunday, 21 July 2013
ہماری استقامت اور طاقت کا سرچشمہ کچھ اور – یعنی عشقِ خدا، عشقِ رسول (ص) اور کربلا-- ہے۔ قائد حزب اللہ
اربعینِ
امام حسین علیہ السلام کے جلوسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اللہ سید
حسن نصراللہ نے فرمایا کہ ہم پوری دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں جو یہ سمجھتا
ہے کہ ہمارے اوپر کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ
ٹھیک ہے، یہ بتائیں کہ 1985 میں حزب اللہ کے پاس کیا اسلحہ، اوزار اور
تعداد تھی؟ لیکن اس سب کے باوجود حزب اللہ نے خطے کی سب سے مضبوط فوج
اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا۔ 2000 میں میں حزب اللہ کے پاس کیا اسلحہ،
اوزار اور تعداد تھی؟ لیکن اس کے باوجود حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست دی۔
اور پھر 2006 میں، یہ درست ہے کہ اسباب پہلے سے زیادہ تھے لیکن وہ اسرائیل
کے فوجی اسباب سے قابلِ مقائسہ نہیں تھے، لیکن ا سکے باوجود اسرائیل کو
شکست ہوئی۔ تم غلطی کرتے ہو جب تم ہماری طاقت کا اندازہ اسلحہ، تعداد اور
میزائلوں سے لگاتے ہو۔ بے شک ہماری اصل طاقت ہمارے ایمان، ارادے ، عزم
ہمارے خداوند تعالیٰ سے عشق، رسول اکرم ﷺ سے عشق اور امام حسین علیہ السلام
سے عشق میں پوشیدہ ہے اور ہمارے اس ارادے میں پوشیدہ ہے کہ ہم نے ایک
باعزت زندگی گزارنی ہے۔۔۔
انہوں نے مزید فرمایا
کہ میں اپنے دشمنوں، دوستوں اور ان سب لوگوں کو جو ہم سے محبت کرتے ہیں
اور ہمارے بارے میں فکر مند رہتے ہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مزاحمتِ اسلامی
کے بارے میں خوفزدہ نہ ہوں کیوں کہ ہماری استقامت اور طاقت کا سرچشمہ کچھ
اور – یعنی عشقِ خدا، عشقِ رسول (ص) اور کربلا-- ہے۔
اربعینِ امام
حسین علیہ السلام کے جلوسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اللہ سید حسن
نصراللہ نے فرمایا کہ ہم پوری دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں جو یہ سمجھتا ہے
کہ ہمارے اوپر کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ
ٹھیک ہے، یہ بتائیں کہ 1985 میں حزب اللہ کے پاس کیا اسلحہ، اوزار اور
تعداد تھی؟ لیکن اس سب کے باوجود حزب اللہ نے خطے کی سب سے مضبوط فوج
اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا۔ 2000 میں میں حزب اللہ کے پاس کیا اسلحہ،
اوزار اور تعداد تھی؟ لیکن اس کے باوجود حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست دی۔
اور پھر 2006 میں، یہ درست ہے کہ اسباب پہلے سے زیادہ تھے لیکن وہ اسرائیل
کے فوجی اسباب سے قابلِ مقائسہ نہیں تھے، لیکن ا سکے باوجود اسرائیل کو
شکست ہوئی۔ تم غلطی کرتے ہو جب تم ہماری طاقت کا اندازہ اسلحہ، تعداد اور
میزائلوں سے لگاتے ہو۔ بے شک ہماری اصل طاقت ہمارے ایمان، ارادے ، عزم
ہمارے خداوند تعالیٰ سے عشق، رسول اکرم ﷺ سے عشق اور امام حسین علیہ السلام
سے عشق میں پوشیدہ ہے اور ہمارے اس ارادے میں پوشیدہ ہے کہ ہم نے ایک
باعزت زندگی گزارنی ہے۔۔۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ میں اپنے
دشمنوں، دوستوں اور ان سب لوگوں کو جو ہم سے محبت کرتے ہیں اور ہمارے بارے
میں فکر مند رہتے ہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مزاحمتِ اسلامی کے بارے میں
خوفزدہ نہ ہوں کیوں کہ ہماری استقامت اور طاقت کا سرچشمہ کچھ اور – یعنی
عشقِ خدا، عشقِ رسول (ص) اور کربلا-- ہے۔
Labels:
Abbottabad News,
Daily hazara News In Urdu
مزارات صحابہ اور مزارات اولیاء کے تحفظ کیلئے آخری سانس تک جدوجہد کریں گے: اعجاز قادری
پاکستان
سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری مدظلہ نے کہا ہے کہ مزارات
صحابہ اور مزارات اولیاء کے تحفظ کیلئے آخری سانس تک جدوجہد کریں گے۔ حضرت
بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کا روضہ مبارک ہماری عقیدتوں کا محور ہے ہم اس کے تحفظ
کیلئے خون کا آخری قطرہ تک نچھاور کر دینگے۔ حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے
مزار کو نشانہ بنانے والے جان لیں کہ یہ 13ویں صدی نہیں پندرویں صدی ہے وہ
وقت گذر گیا جب جنت البقیع میں اہل بیت اطہار ﴿ع﴾ و صحابہ کرام ﴿رض﴾ کے
مزارات کو بلڈوزر چلا کر شہید کر دیا تھا۔ عوام اہلسنت اہل بیت اطہار ﴿ع﴾ و
صحابہ کرام ﴿رض﴾ کے مزارات کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ ان مزارت کی طرف اٹھنے
والی ہر ناپاک انگلی کاٹ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شام کے
شہر دمشق میں حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے روضہ اقدس پر شامی باغی دہشت
گردوں کے ہاتھوں راکٹ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔
ثروت
اعجاز قادری نے کہا کہ ملک بھر کی سنی عوام دشمنان اہل بیت ﴿ع﴾ کی ناپاک
جسارت کے خلاف اپنے بھرپور جذبات کا اظہار کرکے یزیدی ٹولے کو یہ باور کرا
دیں کہ میدان کربلا سے امام عالی مقام امام حسین (ع) کی اٹھنے والی آواز کے
جواب میں کروڑوں مسلمان لبیک یاحسین ﴿ع﴾ کی صدائیں آج بھی بلند کر رہے
ہیں۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ یہود و ہنود کے ایجنٹ باطل قوتیں سن لیں
غلامان مصطفٰے ﴿ص﴾ اہل بیت اطہار ﴿ع﴾ و صحابہ کرام ﴿رض﴾ کے مزارات کے تحفظ،
اسلام کی سلامتی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دینگے۔ انہوں نے
کہا کہ حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے روضہ اقدس پر راکٹ حملے سے مسلمانوں کے
جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ اس افسوسناک واقعے پر احتجاج کرے۔
پاکستان سنی تحریک کے تحت حضرت بی بی سیدہ زینب ﴿س﴾ کے مزار پر حملے کے
خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔
Labels:
Abbottabad News,
Hazara news.
بی بی زینب۴ کے روضہ اقدس پر حملہ شیعہ سُنی لڑائی نہیں: آئی ایس او
بی
بی زینب۴ کے روضہ اقدس پر حملہ شیعہ سُنی لڑائی نہیں۔ نہ ہی یہ کسی
اہلسُنت نے کیا ہے۔ یہ وہی یزید(ل) کے پیروکار ہیں جنہوں نے 1400 سال پہلے
امام حُسین۴ کو شہید کیا۔ یہ وہی گروہ ہے جس نے پاکستان و دیگر مُسلم
مُمالک میں شیعہ/سُنی مُسلمانوں کا قتل عام کیا۔
یہ وہی ٹولہ
(القائدہ/طالبان/سپاھ صحابہ) ہے جس نے داتا صاحب، بری امام سرکار، عبداللہ
شاہ غازی، پیر بابا اور دیگر اولیاء کرام کے مزارات پر بم دھماکے کئے اور
کُچھ بُزرگان کی جسد خاکی کو قبر سے نکال کر چوک پر لٹکایا۔ اسی طرح انہوں
نے شام میں صحابی رسول(ص) حضرت حجر ابن عدی(رض) کے مزار کی توہین کی اور
انکے جسد خاکی کو نکالا، حضرت خالد بن ولید(رض) کے مزار پر شرک کا فتویٰ
لگا کر جلایا۔
تمام اہلسُنت حضرات اہلبیت۴ سے مُحبت کرتے ہیں بس تمام
اہلسُنت بھائیوں سے گُزارش ہے ان ناصبیوں(القائدہ/طالبان/سپاھ صحابہ) کو
پہچانیں جو اہلسُنت کا نام استعمال کررہے ہیں.
Labels:
Daily hazara News In Urdu,
Sham News
Monday, 8 July 2013
امریکہ اسامہ تک کیسے پہنچا: ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ
نائین الیون سے قبل امریکی بحری جہاز کول اور افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملے میں ملؤث القاعدہ کے ایک رکن
خالد بن عطاش کو جب 2002ء میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تو اسامہ کی تلاش کے حوالے سے یہ پہلی مثبت پیش رفت تھی۔
یہی وہ فرد تھے جنہوں نے ابو احمد علی کویتی کی نشاندہی کی۔ یہ پاکستانی نژاد کویتی اسامہ بن لادن کے دستِ راست اور پیغام رساں ہونے کے علاوہ اسامہ بن لادن کی طرف سے امریکی اراکین کی قیادت کا کام بھی کرتے تھے۔
خالد کی فراہم کردہ اطلاعات کی روشنی میں جب کویتی انٹیلیجنس سروس سے رابطہ کیا گیا تو وہ اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کرسکی۔
ایک ذرائع نے مذکورہ رپورٹ کے بارے میں ڈان کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ 2009ء سے نومبر 2010ء کے عرصے میں اس شخص کی تلاش کے دوران سی آئی اے نے پاکستان کو چار ٹیلی فون نمبر فراہم کیے، لیکن کسی تفصیل کے بغیر کے وہ کس فرد کو تلاش کررہے ہیں۔
ڈان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ یہ تمام ٹیلی فون نمبر زیادہ تر بند رہتے تھے، لیکن آئی ایس آئی نے سی آئی اے پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ تفصیلات جانے بغیر کہ یہ نمبر کس کے ہیں یہ کام مشکل ہوگا۔
ماضی کے واقعات پر نظر ڈالتے ہوئے اب کمیشن کی رپورٹ نے تصدیق کردی ہے کہ عطاش کے انکشاف کے مطابق کویتی اسامہ بن لادن کا دستِ راست تھے۔
کمیشن نے جو کچھ دریافت کیا ہے، اس کے مطابق کویتی اسامہ بن لادن کے خاندان کے ہمراہ کراچی میں اکتوبر یا نومبر 2001ء سے مقیم تھا۔
جب 2002ء کے دوران اسامہ بن لادن کا خاندان، جس میں ان کی بیویاں بھی شامل تھیں، پشاور چلاگیا، تو اس وقت کویتی بھی ان کے ہمراہ تھا۔ پھر 2002 کے وسط میں اسامہ بن لادن بھی ان سے آن ملے تھے۔
یہاں سے پھر وہ سوات چلے گئے جہاں اسامہ بن لادن نے خالد محمد شیخ سے ملاقات کی تھی۔
ایک مہینے کے بعد خالد محمود شیخ کو راولپنڈی میں گرفتار کرلیا گیا، چنانچہ خوف کے باعث فوری طور پر اسامہ کے خاندان کو ہری پور منتقل کردیا گیا۔
کویتی اور ابرار فرار ہوکر سوات میں اکھٹا ہوگئے، جہاں اسامہ بن لادن بھی موجود تھے، پھر یہ سب 2005ء تک ہری پور میں مقیم رہے۔
اور پھر یہ لوگ ایبٹ آباد منتقل ہوگئے، جس کی منصوبہ بندی اور انتظامات کویتی نے کیے۔ ایک ذرائع نے مشروط طور پر بتایا کہ کویتی نے ہی ایبٹ آباد میں ایک جعلی شناختی کارڈ پر ایک پلاٹ خریدا اور اس پر گھر کی تعمیر کی نگرانی بھی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تین کمپلیکس پر مشتمل تھا، ایک اوپن کمپاؤنڈ، ایک ملحقہ گھر جس میں کویتی اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، جبکہ مرکزی حصہ تین منزلہ گھر پر مشتمل تھا۔
دونوں بالائی منزلیں اسامہ بن لادن اور اُن کی فیملی کے زیراستعمال تھیں۔ان کی سب سے چھوٹی بیوی کا قیام دوسری منزل پر تھا، جبکہ ان کی پُرانی بیویاں شریفہ اور خائرہ، پہلی منزل پر مقیم تھیں۔
کویتی کا بھائی ابرا اور اس کی بیوی اسی گھر کے گراؤنڈ فلور پر پر رہتے تھے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ اس گھر کی تعمیر اس طرح کی گئی تھی کہ ابرار کے بچے اسامہ بن لادن کو نہیں دیکھ پائے تھے۔
کمیشن کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ سوات، ہری پور یا ایبٹ آباد میں قیام کے دوران اسامہ بن لادن نے کبھی ٹیلیفون لائن، انٹرنیٹ یا کیبل کنیکشن کبھی استعمال نہیں کیا۔ اگرچہ ایک سے زیادہ شہروں میں جہاں ان کی فیملی کا قیام رہا، ایک ڈش الجزیرہ چینل دیکھنے کے لیے ان کے استعمال میں ضرور رہی۔
ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ کمیشن کی نشاندہی کے مطابق ایبٹ آباد کے مذکورہ گھر میں رہنے والوں کے غیرقانونی قیام سے مقامی سطح پر حکام لاعلم رہے۔
مثال کے طور پر یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ عام اور دستی شناختی کارڈ زمین کی خریداری کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ نادرا کی جانب سے 2004ء میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا استعمال لازم ہوچکا تھا۔
ذرائع نے کہا کہ عام شناختی کارڈ جو متروک ہوچکا تھا، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، کنٹونمنٹ بورڈ اور دوسرے اداروں کی طرف سے قبول کرلیا گیا۔مزید یہ کہ شناخت اور ایڈریس کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تیسری منزل کی تعمیر عمارتی قوانین کی خلاف ورزی تھی، لیکن اس حوالے سے بھی حکام نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
کمیشن نے مزید نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس گھر کی قلعہ نما تعمیر پر کنٹونمنٹ بورڈ، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور مقامی لوگوں کا دھیان نہیں گیا۔ اس کے علاوہ اس گھر کے مکینوں کی طرف سے پراپرٹی ٹیکس کی 2005ء سے عدم ادائیگی بھی حکام کی توجہ اس جانب مبذول نہ کرواسکی۔
ڈان کے علم میں یہ بھی بات آئی ہے کہ مذکورہ کمیشن نے حکومت کو سفارشات پیش کی ہیں کہ وہ 2 مئی کی طرز کےکسی دوسرے آپریشن کو روکنے کی کوشش کرے۔
مذکورہ رپوٹ میں جو تفتیش کی گئی یا پاکستان میں چھپے ہوئے ایسے مجرمیں کی گرفتاری کے حوالے سے جو کچھ بھی سفارشات پیش کی گئی ہیں، ان پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا۔
اس لیے کہ نہ تو یہ واضح ہیں، اور نہ ہی کمیشن نے کو اسامہ بن لادن کی ملک میں موجودگی یا امریکیوں کی جانب سے مئی کی چھاپہ مار کارروائی پر کسی ایک کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
یہ سفارشات جو ڈان کے علم میں آئی ہیں، کی توجہ امریکیوں کی ملک کے اندر سرگرمیاں اور بیرونی قوتوں کی کارروائی پر مرکوز ہے ۔ ساتھ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ چیئرمین چیف آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کے کردار میں مزید اضافہ کیا جائے اور مسلح افواج کے درمیان روابط کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اس کے علاوہ اس کی طرف سے قومی سلامتی کونسل کو مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ وہ فوری طور پر اقدامات کرسکے، جیسا کہ کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ بہت سے اعلیٰ سطح کے عہدیدار آپریشن کے دوران رابطے میں نہیں آسکے تھے۔
کمیشن نے بڑے پیمانے پر امریکی کنٹرکٹرز کو ویزہ کے اجراء کی چھان بین کی بھی سفارش کی ہے، جنہوں نے پاکستان کے اندر جاسوسی کا ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔
اسامہ کی بیویوں کا مؤقف
جب رات کے درمیانی حصے کے دوران، ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں امریکن نیوی سیل کے اہلکاروں کا حملہ ہوا، تو اسامہ بن لادن کا پہلا ردّعمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنی فیملی سے کہا وہ پُرسکون رہیں اور کلمہ کا ورد کرتے رہیں۔
اُس رات کو رونما ہونے والے پے درپے واقعات کے نتیجے میں اُسامہ بن لادن قتل کردیے گئے تھے۔ کمیشن نے اسامہ بن لادن کی فیملی سے بات کی ساتھ ہی انٹیلی جنس رپورٹوں کی فراہمی کے ساتھ اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ ان کی تفصیلات کو اکھٹا کرکے دیکھا جائے کہ اُس رات کیا ہوا تھا۔
کمیشن نے دریافت کیا ہے کہ امریکن سیل کے اہلکاروں کی ٹیم جلال آباد سے رات کو گیارہ بجے روانہ ہوگئی تھی، اور لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے میں ایبٹ آباد پہنچ گئی تھی۔ کمپاؤنڈ پر حملہ ایک سے زیادہ اطراف سے کیا گیا تھا۔
ڈان کے علم میں آیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق امریکن نیوی سیل نے کمپاؤنڈ میں ملحقہ گھر پر پر حملہ کیا اور لوہے کے دروازوں کو اُڑا دیا۔ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ بہت سے فوجی گھر کی چھت پر اُترے تھے۔
سب سے پہلا حملہ ملحقہ گھر پر ہی ہوا، جس میں کویتی رہائش پذیر تھا۔ ہلاک ہونے والا پہلا فرد کویتی تھا جبکہ اس کی بیوی زخمی ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق کمیشن کو یہ معلوم ہوا ہے کہ کمپاؤنڈ کے مرکزی گھر کے تمام فلورز پر بیک وقت حملہ کیا گیا، جس سے ابرار اور اس کی بیوی ہلاک ہوگئی۔ ابرار کویتی کے بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔
اسی دوران اسامہ بن لادن کی بڑی بیویوں کے بچے، ان کے بیٹے خالد کے ہمراہ سیڑھیوں کے ذریعے اپنے والد کے پاس جانے کے لیے دوڑے۔
خالد کو ان کے والد نے نیچے کی طرف ابرار کی مدد کے لیے بھیجا اور وہ سیڑھیوں پر ہی امریکی سیل کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے۔
ؕذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جب امریکی سیل کے اہلکار اسامہ بن لادن کے کمرے میں پہنچے تو، ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھا اور وہ شیلف پر ایک گرینیڈ تلاش کررہے تھے، جیسے ہی وہ پلٹے ان کو شوٹ کردیا گیا۔ اس مرحلہ پر امل اور اسامہ کی بیٹی سمایا تیزی سے آگے بڑھیں کہ اس شخص کو روکیں، امل گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔
جب گھر کے تمام افراد نے امریکی سیل کو بتادیا کہ اسامہ بن لادن ہلاک ہوچکے ہیں، تو سمایا اور کویتی کی بیوی سے پوچھا گیا کہ وہ اسامہ بن لادن کی شناخت کرلیں۔
کمیشن نے بتایا، جیسا کہ اسامہ کی بیویوں نے اُسے بتایا تھا کہ امریکی اس گھر سے جو قیمتی چیزیں اپنے ہمراہ لے گئے ان میں دس دس تولے کے سونے کے 25 بسکٹس، دستاویزات، ہتھیار اور چھ کمپیوٹروں کی ہارڈ ڈرائیوز بھی شامل ہیں۔
ڈان کے علم میں آیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چار ہیلی کاپٹرز اس کارروائی میں استعمال ہوئے، جو پاکستان کی فضائی حدود میں غرسال اور شلمان کے درمیان سے داخل ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کو کسی بہت بڑی سازش کی تفصیلات نہیں حاصل ہو سکیں جس کے ذریعے یہ ثبوت فراہم
ہوتا ہو کہ امریکی سیل کو زمینی سطح سے بھی اس کارروائی کے دوران کسی قسم کی مدد فراہم کی گئی ہو۔
شکریہ ڈان نیوز
Sunday, 23 June 2013
استنبول :تقسیم اسکوائر میں مظاہرین پر شیلنگ، پانی کی توپ چلادی گئی
استنبول…ترکی کے شہر استنبول میں حکومت مخالف مظاہرین کو پولیس نے منتشرکردیا۔تقسیم اسکوائر
پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی اور پانی کی توپ چلائی گئی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔استنبول کے تقسیم اسکوائر پرمظاہرین گذشتہ 3ہفتے قبل پولیس سے جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے 4افراد کی یاد میں دھرنا دیے بیٹھے تھے کہ پولیس انہیں منتشر کرنے کیلیے وہاں پہنچی جس پر وہاں موجود مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے مظاہر ین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا۔
Labels:
Abbottabad News,
Daily hazara News In Urdu
گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو معطل کر دیا ،چوہدری نثار
اسلام آباد… وفاقی وزیر داخلہچوہدری نثار کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری اور آئی جی
گلگت بلتستان کو معطل کر دیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری اور آئی جی گلگت بلتستان کی خلاف انکوائری ہو گی ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رات 1 بجے فیری میڈوز میں نالے کے قریب بیس کیمپ میں شدت پسند آئے ۔فائرنگ سے 3 چینی،5 یوکرین اور ایک روسی کو قتل کیا گیا ۔ابتدائی معلومات کے مطابق شدت پسند سیکیورٹی فورسز یونیفارم میں آئے ۔ ایک چینی سیاح کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا ۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہاس چینی سیاح کو ہم نے با حفاظت نکال لیا ہے ۔چینی سفیر کی اطلاع کے مطابق ایک چینی سیاح زندہ ہے حملہ آوروں کا مقصد دنیاکو پیغام دیناتھا کہ پاکستان غیر محفوظ جگہ ہے چینی سفیر سے میری بات ہوئی،اس نے پوچھا کہ کیا چینی ٹارگٹ تھے میں نے کہا کہ ٹارگٹ پاکستان تھا ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ اب کوئی فوجی بغیر چیکنگ کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکتا ۔اگر 6 دہشتگرد فوجی وردی میں پارلیمنٹ ہاوٴس آئیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا ۔جی ایچ کیو پر حملہ ہوا اور حملہ آور فوجی وردی میں آئے۔ اسپیکر ایازصادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔
Labels:
Abbottabad News,
Gilgit News,
Gilgit News In urdu
گلگت بلتستان: نانگا پربت بیس کیمپ میں10 سیاح قتل
دیامر…گلگت بلتستان میں نانگا پربت بیس کیمپ ، بونر نالا میں 10 سیاح قتل کر دیے گئے۔مرنے والوں
کا تعلق چین، یوکرائن، اور روس سے ہے جبکہ ایک پاکستانی سیاح بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔دیامر کے علاقے فیری میڈو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 9 غیر ملکی سیاح ہلاک ہوگئے ۔ڈی آئی جی گلگت رینج علی شیر کے مطابق سیاحوں پر حملے کا واقعہ ہفتہ اور اتوار کی رات ایک بجے کے قریب دیامر کے علاقے فیری میڈو میں پیش آیا۔جہاں نانگا پربت کے بیس کیمپ میں موجود 9 غیر ملکی سیاح نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل ہوگئے۔لاشوں کوڈی ایچ کیو اسپتال چلاس اسپتال منتقل کیاجارہا ہے ۔واقعے کے بعد ایف سی ناردرن ایریا نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ادھر ذرائع کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والے سیاحوں کی تعداد 11 ہے۔جن میں سے پانچ کا تعلق یوکرین، تین کا چین سے جبکہ ایک روسی اور ایک پاکستان کا سیاح شامل ہے۔Friday, 21 June 2013
پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گ
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہےجسکی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد
ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!
پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی "عظم نو "مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے باقی امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!
امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔۔۔۔۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اسکی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے !!
فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔۔۔!!
یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔۔۔
"ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو" ۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا انحصار بھی ایف پیک اور فورتھ جنریشن وار کی کامیابی پر ہے
تحریر شاہد خان
Saturday, 15 June 2013
بولان میڈیکل اسپتا ل میں مسلح افرادموجود ،وقفے وقفے سے فائرنگ
کوئٹہ… بولان
میڈیکل کمپلیکس اسپتا ل میں مسلح افراد اورایف سی کے درمیان فائرنگ کا
تبادلہ جا ری ہے، بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتا ل میں مسلح افراد اب بھی
موجود ہیں جو لوگ اسپتال میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے مسلح افراد اس پر
فائرنگ کر دیتے ہیں۔صورت حال کے پیش نظررینجرز کی اضافی نفری بولان میڈیکل
کمپلیکس اسپتا ل روانہ کردی گئی ہے۔ اسپتال میں ویمن یونیورسٹی کی بس میں
دھماکے کی20سے زائد طالبات زیر علاج ہیں جبکہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ
اسپتال میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)









