اسلام آباد …
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کوئٹہ بم دھماکوں اور امن و امان کی صورتحال
پر وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کو فوراً وطن واپس پہنچنے اور قمر زمان
کائرہ کو کوئٹہ پہنچنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے گورنر
بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی سے فون پر رابطہ کیا ، گورنر نے کوئٹہ کی
صورتحال پر قابو پانے سے متعلق اقدامات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم
راجا پرویز اشرف نے گورنر بلوچستان کو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے
ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب
اسلم رئیسانی کو فوری طور پر وطن واپس پہنچنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ وفاقی
وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کو بھی فوراً کوئٹہ پہنچے کا حکم دیا ہے۔
Saturday, 12 January 2013
لانگ مارچ کل شروع ہوگا، چارٹر آف ڈیمانڈ 7 نکاتی ہے، طاہر القادری
لاہور …
تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ کل صبح 9 بجے لاہور سے
لانگ مارچ کا آغاز ہوگا، وزیر داخلہ رحمان ملک نے مجھے براہ راست دھمکی دی
ہے، رحمان ملک کے دہشتگردی کے بیان پرچیف جسٹس پاکستان از خودنوٹس لیں،
حکومت مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے
ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حکومت کا مذاکرات کا ایجنڈا سیاسی
جوڑ توڑ ہے ، عوامی مسائل پر مذاکرات کیلئے حکومت کے پاس وقت نہیں ، ملک،
آئین اور قانون بچانے کیلئے قوم اٹھ کھڑی ہو ،ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈ 7نکاتی
ہے، چارٹر آف ڈیمانڈ کا ایک نکتہ لاہور اور 6نکات اسلام آباد میں بتاوٴں
گا ، تحریک انصاف کی قیادت اور کارکن تبدیلی چاہتے ہیں ، اپنے منشور کے
مطابق یہ لوگ خصوصاً مارچ کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات پر
یقین نہیں رکھتی، مذاکرات یا کوئی عمل لانگ مارچ کو نہیں روک سکتا، مذاکرات
کا دروازہ کسی کیلئے بند نہیں کرتا، ایک نہیں 100 افراد مذاکرات کیلئے
میرے پاس آئیں، لانگ مارچ ہوگا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حتمی
مذاکرات پارلیمنٹ ہاوٴس کے سامنے عوام کے سامنے ہوں گے ،مذاکرات کے نام پر
لانگ مارچ کا فیصلہ متزلزل نہیں ہوگا ، لانگ مارچ زندگی اور موت کا فیصلہ
ہے ، بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کا قائل نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا
کہ کل صبح 9 بجے لانگ مارچ کا آغاز داتا دربار لاہور سے ہوگا جو بری امام
اسلام آباد پر اختتام پذیر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ 2 جماعتیں مک مکا کر کے
20 ویں ترمیم لائیں ، الیکشن کمیشن غیر جانبدار انداز میں قائم نہیں کیا
گیا ، دونوں جماعتوں نے مک مکا کر کے الیکشن کمیشن تشکیل دیا۔ ڈاکٹر طاہر
القادری نے کہا کہ آج صبح لشکری رئیسانی سے بات ہوئی، بلوچستان میں قیامت
کا منظرہے،اپنے مشن کو حسینی مشن ڈکلیئر کرچکا ہوں، رحمان ملک نے مجھے براہ
راست دھمکی دی ہے، میں صرف اللہ کی ذات سے ڈرنے والا شخص ہوں،رحمان ملک کے
دہشتگردی کے بیان پر چیف جسٹس از خود نوٹس لیں۔
Friday, 11 January 2013
لانگ مارچ پر حملہ ہوا تو6 لوگ ذمہ دار ہونگے، طاہرالقادری
لاہور…تحریک
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اگرلانگ مارچ پر
حملہ ہوا تو6 لوگ ذمہ دار ہوں گے۔لاہور میں نیوز کانفرنس کے دوران ڈاکٹر
طاہرالقادری نے کہا کہ اگر14 جنوری کے لانگ مارچ پر حملہ ہوا تو صدر،
وزیراعظم، رحمان ملک، نوازشریف، شہبازشریف، رانا ثنااللہ ذمہ دار ہوں
گے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کا لانگ مارچ میں عدم شرکت کا فیصلہ ان کا
جمہوری حق ہے،ایم کیوایم نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ
وہ لانگ مارچ کے سلسلے میں تعاون پر ایم کیوایم کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے
کہا کہ اگراصلاحات کے بغیرانتخابات ہوئے توملک میں سیاسی آمریت قائم ہوگی۔
طاہرالقادری نے کہا کہ کل لانگ مارچ کے لیے نکلنے سے پہلے ایجنڈے کا اعلان
کروں گا، تبدیلی کی خواہشمندسیاسی قوتیں ساتھ دیں ورنہ تاریخ معاف نہیں
کریگی۔
Labels:
Abbottabad News,
Hazara News
بدامنی اور بم دھماکوں کے بعد حکومت حکمرانی کا حق کھوچکی، مارچ ضرور ہوگا، طاہرالقادری
لاہور…تحریک
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہے کوئی ابہام میں
نہ رہے، مارچ ہوگا اور ضرور ہوگا، عدلیہ نے آئین کے تحت لانگ مارچ کو
جائزقرار دیا ہے، لانگ مارچ کو خلاف آئین کہنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔
لاہور میں نیوزکانفرنس کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ لانگ مارچ کو
روکنے کے لیے 3درخواستیں دائر کی گئیں، جنہیں عدالتوں نے خارج کردیا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ عوام کا آئینی حق ہے اور وہ مخالفین کی تنقید کو
مسترد کرتے ہیں، لانگ مارچ قطعی طور پر بنیادی انسانی حقوق کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور سوات میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات قابل
مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تسلیم کرے کہ وہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے
میں ناکام ہوچکی ہے، بدامنی اور بم دھماکوں کے بعد حکومت حکمرانی کا حق
کھوچکی، گذشتہ روز 100 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے، دہشت گردی کا سلسلہ
عرصہ دراز سے ملک میں جاری ہے، دہشت گردی کے واقعات نے 18 کروڑ عوام کو
دہلاکررکھ دیا ہے، نہ مسجد محفوظ ہے، نہ امام بارگاہ اور نہ ہی چرچ محفوظ
ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نے کہا کہ ملکی سا لمیت کیلئے پاک فوج کے اقدامات
میں پوری قوم فوج کے ساتھ ہے، افواج پاکستان کو مبارک باد دیتا ہوں، حالات
کیسے بھی ہوں عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہیں گے۔
کوئٹہ بم دھماکوں نے سیکورٹی اداروں پر سوالات کھڑے کردیئے
کوئٹہ…کوئٹہ میں
گذشتہ روز کے خود کش حملے اور دو بم دھماکوں نے امن وامان کی صورتحال کے
حوالے سے ایک بار پھر صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی
کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔کوئٹہ میں آئے دن دھماکے ، دہشت گرد
کارورائیوں اور مجرموں کے گرفت میں نہ آنے کی صورتحال نے ایک طرف عوام کو
عدم تحفظ سے دوچار کردیا ہے ، تو دوسری طرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے
اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھادیئے ہیں ۔عوام موت کا شکار ، دہشت
گرد آسانی سے فرار ، آخر کیوں ؟ایک عشرے سے زیادہ وقت گزر گیا ، شہر میں
سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کیوں نہیں ہوسکی ۔دہشت گرد تعداد میں زیادہ ہیں ،
یا صلاحیت میں ،انٹیلی جنس ادارے کیوں ناکام ہورہے ہیں ۔سیکیورٹی اداروں
کے پاس دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا توڑ کیوں نہیں ہے ۔کیا سرکاری وسائل، دہشت
گردی کے مسائل کے لیے ناکافی ہیں ۔اگر ناکافی ہیں تو انہیں ہم آہنگ کرنا
کس کی ذمہ داری ہے۔شہر میں لاشیں گررہی ہیں،کیا حکومت کا کام صرف گرتی
لاشوں کی گنتی کرنا رہ گیا ہے۔حساس ادارے اس حساس معاملے پرایکشن میں کیوں
نہیں آرہے۔
Labels:
Hazara News,
Quetta News
آج رات اہل خانہ کو وصیت کرونگا، ڈاکٹر طاہرالقادری
لاہور…تحریک
منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ آج رات اپنی بیوی
اور بچوں کو وصیت کروں گا اور انہیں بتاوٴں گا اگر مجھے قتل کر دیا جائے تو
انہیں کیا کرنا ہے۔ لاہور میں نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پتا
نہیں لانگ مارچ کے بعد زندہ رہوں گا یا نہیں، آج رات اپنے اہل خانہ کو
اکٹھا کروں گااور نہیں بتاوٴں گا اگر مجھے قتل کر دیا جائے تو انہیں کیا
کرنا ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر لیکر
نکلوں گا ، عوام کی فتح کا سورج طلوع ہونے تک مارچ جاری رہے گا ۔انہوں نے
کہا کہ حکمران دہری چال چل رہے ہیں ۔
Labels:
Abbottabad News,
Hazara News
لانگ مارچ پر دہشت گرد حملوں کی ٹھوس اطلاعات ہیں، قمر زمان کائرہ
اسلام آباد …
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ طاہر القادری کی جماعت نے
ماحول خراب نہ کرنے کی گارنٹی دی تو سیکیورٹی فراہم کریں گے، مارچ پر دہشت
گرد حملوں کی ٹھوس اطلاعات ہیں ۔ قمر زمان کائرہ نے اسلام آبادمیں میڈیا سے
گفتگو میں کہا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس اطلاعات ہیں کہ
لانگ مارچ پر دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے، ایم کیو ایم نے خود کو الگ کرکے
اچھا اقدام اٹھایا ہے، طاہر القادری ایم کیو ایم اور ہماری بھی سن لیں اور
لانگ مارچ کا ارادہ ترک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی دہشت
گردی کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد
انتخابات کا التواء ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حکومت نے دہشت گردوں کے
خلاف مختلف کارروائیاں کر کے ان کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ بھاگتے ہوئے
چھپ کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
Labels:
Abbottabad News,
Hazara News
Thursday, 10 January 2013
کوئٹہ کےدھماکوں میں سماء کے سینیئررپورٹرسیف الرحمان شھید ھوگئے
کوئٹہ : کوئٹہ میں علمدارروڈ کےدھماکوں میں شدید زخمی ھونےوالےسماء کے سینیئررپورٹر سیف الرحمان زخموں کی تاب ناں لا کراسپتال میں شھید ھو گئے۔
سب سے پہلے خبر دینے کے جنون میں سیف الرحمان خود ہیڈلائن بن گئے۔۔ وہ علمدار چوک دھماکے کی کوریج میں مصروف تھے۔۔ کہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔۔ سیف کے ساتھی کہتے ہیں وہ نڈر اور بے باک صحافی تھے۔
خبر۔۔ خبر اور صرف خبر ۔۔ سیف الرحمان پر ایک ہی دھن سوار رہتی تھی ۔۔ عوام تک بروقت خبر پہنچائی جائے ۔۔ لیکن آج وہ خود ایک خبر بن گئے۔۔
علمدار روڈ پر پہلا دھماکا ہوا تو سیف اپنی ٹیم کو لے کر کوریج کے لئے موقع پر پہنچ گئے۔۔ لیکن دہشت گردوں نے ابھی بس نہیں کی تھی ۔۔۔ دوسرا دھماکا ہوا اور ٹیم سما اس کا نشانہ بن گئی۔
سیف الرحمان دھماکے کے بعد لاپتہ ہوئے۔۔ کافی دیر بعد خبر آئی کہ انہیں شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔۔ وہ تین گھنٹے تک موت سے زندگی کی جنگ لڑتے رہے۔۔ لیکن پھر سیف نہ رہے۔
سیف الرحمان ٹیم سماء کے بہادر اور فعال رکن تھے۔۔ ان کے ساتھی کہتے ہیں سیف ملنسار ۔۔ محنتی اور دیانت دار صحافی تھے۔۔ انہوں نے والدین ۔۔ بیوہ اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔
سب سے پہلے خبر دینے کے جنون میں سیف الرحمان خود ہیڈلائن بن گئے۔۔ وہ علمدار چوک دھماکے کی کوریج میں مصروف تھے۔۔ کہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔۔ سیف کے ساتھی کہتے ہیں وہ نڈر اور بے باک صحافی تھے۔
خبر۔۔ خبر اور صرف خبر ۔۔ سیف الرحمان پر ایک ہی دھن سوار رہتی تھی ۔۔ عوام تک بروقت خبر پہنچائی جائے ۔۔ لیکن آج وہ خود ایک خبر بن گئے۔۔
علمدار روڈ پر پہلا دھماکا ہوا تو سیف اپنی ٹیم کو لے کر کوریج کے لئے موقع پر پہنچ گئے۔۔ لیکن دہشت گردوں نے ابھی بس نہیں کی تھی ۔۔۔ دوسرا دھماکا ہوا اور ٹیم سما اس کا نشانہ بن گئی۔
سیف الرحمان دھماکے کے بعد لاپتہ ہوئے۔۔ کافی دیر بعد خبر آئی کہ انہیں شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے۔۔ وہ تین گھنٹے تک موت سے زندگی کی جنگ لڑتے رہے۔۔ لیکن پھر سیف نہ رہے۔
سیف الرحمان ٹیم سماء کے بہادر اور فعال رکن تھے۔۔ ان کے ساتھی کہتے ہیں سیف ملنسار ۔۔ محنتی اور دیانت دار صحافی تھے۔۔ انہوں نے والدین ۔۔ بیوہ اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔
Labels:
Hazara News,
journalist News,
Pakistan journalist,
Quetta News
کوئٹہ بم دھماکے: فضا سوگوار،جاں بحق افراد کی نماز جنازہ آج ہوگی
کوئٹہ …کوئٹہ کے
علاقے علم دار روڈ پر رحمت اللہ چوک کے قریب بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے
والوں کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی، کوئٹہ شہر کی فضا سوگوار ہے اور
امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر ایف سی کی مزید نفری طلب جبکہ فوج
کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔ گذشتہ روزکوئٹہ بدترین دہشت گردی کا شکار رہا اور
تین بم دھماکوں میں مجموعی طور پر میں 96 افراد جاں بحق اور 170 سے زائد
زخمی ہوگئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوسمیت9
پولیس اہلکار جبکہ نجی ٹی وی کا ایک کیمرہ مین عمران شیخ اور ایک رپورٹر
بھی شامل ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ رحمت اللہ چوک پرہونے والے دونوں دھماکے
خود کش تھے۔جائے وقوعہ پر قیامت کا منظر تھا، انسانی اعضاء دور دور تک
بکھرے ہوئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں علم دار روڈ پر ایک اسنوکر کلب
میں دھماکا ہواجو خود کش تھا ، دھماکا ہوتے ہی پولیس ،میڈیا کے نمائندے
اور امدادی کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، امدادی کام جاری تھا کہ قریبی
کار میں موجود ایک اور خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا،جس سے زیادہ
نقصان ہوا۔ ان دونوں دھماکوں میں مجموعی طور پر 84افراد ہلاک اور 100سے
زائد زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل باچا خان چوک پر ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب بم
دھماکے میں 3 اہلکاروں اور بچے سمیت 12 افراد جاں بحق اور سے 40زیادہ
افراد زخمی ہوئے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 20 سے 25 کلو گرام
بارودی مواد استعمال اور ٹائم ڈیوائس کے ذریعے دھماکا کیا گیا، ریموٹ
کنٹرول بم گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔دریں اثناء کوئٹہ میں امن وامان کی
مخدوش صورتحال کے پیش نظر ایف سی کی مزید نفری طلب اورفوج کو ہائی الرٹ
کردیا گیا ہے۔ یہ بات سیکرٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی نے جیو نیوز
کو بتایا کہ کوئٹہ میں نماز جمعہ اور علمدار روڈ دھماکوں میں جاں بحق ہونے
والے افراد کی نماز جنازہ کے موقع امن وامان کیلئے ایف سی کی آٹھ پلاٹون
طلب کرلی گئیں۔صوبائی حکومت نے کوئٹہ میں آج کیلئے فوج کو بھی ہائی الرٹ
کردیا گیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے بتایا کہ ایف سی کی طلب کی گئی
نفری شہر میں حساس مقامات پر تعینات کی جائے گی۔
Labels:
blast news,
Daily hazara News In Urdu,
Hazara News
کوئٹہ: 2 دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 84 ہوگئی
کوئٹہ … علمدار
روڈ پر 2 دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 84 ہوگئی جبکہ 100
سے زائد افراد زخمی ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکوں کے مزید 3 زخمی چل
بسے جس کے بعد ہلاکتوں کے مجموعی تعداد 84 ہوگئی، اسپتال ذرائع کے مطابق
زخمیوں کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ دھماکے میں نجی ٹی وی کے کیمرا مین
عمران شیخ جاں بحق ہوگئے جبکہ سیٹ لائٹ انجینئربھی زخمی ہو ئے۔ واقعے میں
جیو ٹی وی کی او بی وین بھی شدید متاثر ہو ئی اور اس کی ونڈ اسکرین مکمل
طور پر ٹوٹ گئی اور اندر بیٹھے ایک کیمرہ مین بھی زخمی ہو گئے۔ پہلا دھماکا
کوئٹہ کی اہم اور مصروف شاہراہ علم دارروڈکے قریب رحمت اللہ چوک پرہواجس
کی کوریج کے لئے جوں ہی میڈیاٹیم پہنچی دوسرا دھماکا ہو گیا اور میڈیا ٹیم
دھماکے کی زدمیں آگئی۔علمدارروڈپرپہنچنے والی میڈیاٹیم کے کئی نمائند ے
دوسرے دھماکے میں ہی زخمی ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ پہلا دھماکا خود کش تھا۔
دوسری طرف سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ
دھماکوں میں ڈی ایس پی اورایس ایچ اوسمیت9اہلکارجاں بحق ہوئے، دھماکوں میں
جاں بحق ہونے والوں میں سے 62افراد کی لاشیں سی ایم ایچ،10 سول اسپتال
اور9 دیگر اسپتال منتقل کی گئی ہیں۔
Labels:
Abbottabad News,
blast news,
Hazara News
Subscribe to:
Posts (Atom)








